
ریطہ فرحت
آج کا درد کل کا دھیان رکھتا ہوں
سوز دل اور سچی زبان رکھتا ہوں
اخوت کی جہاں گیری اورمحبت کی فراوانی کا وقت ہے،اقبال نےخوب اظہار خیال کیا۔ رمز مسلمانی ہےکہ مرد مومن شجاعت صداقت اور اپنے ضمیر کی عدالت کو کارساز کرے۔
مرد مسلماں کا اصل سرمایہ اس کی ایمانی طاقت ہےکہ یکجا ہوکر سارےفرق مٹاکر سینہ سپر ہوجائے،اس کی نگہ پرواز آسمان ہو،اس کی زباں حکمت، پاکیزگی، اور اتحاد کا جھنڈا گاڑے ۔اس کی خاموشی غورو فکر کی خاموشی ہو۔اس کا قلم تیغ عمر و علی رضہ بن جائے۔
یقیں کی منزل پرچلنے والی اس قوم نے ہر محاذ پر دلیری سےمقابلہ کیا ہے۔ یہ ان قربانیوں کا سرچشمہ ہے جو محمدعلی جناح کی قیادت میں ہجرتوں کے وقت دی گئیں۔یہ وہ قوم ہے جس نے قیصر وکسریٰ کے استبداد کو مٹایا۔اپنے گماں کے اجالوں میں یقین کی آنچ جلاکرتابناک مستقبل تعمیر کیا،رنگ ونسل کے فرق مٹاکر وہ قافلہ جو ہندوستان سے چلا تھا اس کی مسافت میں ان گنت خار تھے ۔وہ قافلہ آج بھی وفائے عہد وطن کا پاسبان بن کر بھارت کے ہر حملے کا منہ توڑ جواب دے رہا ہے۔سلام اے پاک فوج کے جوان ۔۔۔۔تیرے بدن اور روح میں جو نسبت ابرہیمی ہے،شاہین کا جگر لے کر یہ نگاہ شمشیر اپنے عزم میں بے باک ہے۔
پھر یہ اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے والےخورشید جن کی ہمتیں کبھی پسپا نہیں ہوتیں،ان کی عمریں تو زندگی کےحلقہ شام وسحرسےجدا ہوکر جاودانی کی اسیر ہوتی ہیں۔تفسیر مسلمانی یہ ہے کہ مومن کے اوپر جو مشکلات آتی ہیں وہ اپنے سینہ قرآن سے، ایمان کی حرارت سے اپنے عزم و ہمت سے خودی کی تجلی جلاکر دشمن. کی صفوں کو پاش پاش کردیتا ہے۔اب وقت یکجا ہوکر سارے اختلافات بھلاکر اپنی فوج اور ملک کا دفاع کرنے کا ہے، جہاد زندگانی میں مومن کا ہتھیار اخوت،اتحاد ،یگانگت اور بھائی چارہ ہے۔اس خاکی فطرت میں یقین محکم کی آمیزش ہے، اس کاروان ازل میں میراث خلیل رضہ ہے، ستاروں پہ کمند باندھنے والی یہ مومن کی پرواز اس کی تو دہشت ہی یورپ سے لےکرایشیا کےہرحصےمیں ہےتو پھر کیا وہ وقت قریب نہیں کہ ایک دن یہ پاک وطن امت مسلم کے ہر زخم کا مرہم بن کر صورت خورشید ابھر سکے گا۔
اللہ میرے وطن کی اور اس کےحافظوں کی حفاظت فرمانا۔




































