
مسرت جبین / لاہور
صدیوں سے صدائے ابراہیم علیہ السلام پہ باذن اللّہ دنیا کے ٹھکرائے ہوئے دکھوں سے لدے ہوئے ،غموں سے چور اپنوں کے لگائے ہوئے
رستے زخم،زخمی وجود لیےآس امید کے دیےجلائے رب رحیم وکریم کی رحمتوں سےدامنِ بھرنےکشاں کشاں اس درپہ حاضری کےلیےدوڑئےچلےآتے ہیں ہا ں پوری کائنات میں یہی تو در ہے درد کا درماں، جائے پناہ، امن کا گہوارہ سلامتی کی علامت، غموں دکھوں کی علاج گاہ ،سکون قلب کامسکن، راحتوں محبتوں کا امین ،اسی در پہ جبیں سجدہ ریز ہو گئی تو نجات کی نوید مل پائے گی ۔
عظیم رب کی عظمت وکبریائی ہی توہےکہ اتنی عظیم نعمتوں سےنوازاہے۔چشم تصورمیں وہ روح پرورمنظرجب اللہ کےعاجز بندےدیوانہ وربیت اللہ کا طواف کرتے ہیں۔ تو خود بخود فضا یہ پیغام دیتی ہے کہ یہی تو مرکز ہے ، یہی تو منزل ہے ،یہیں پرفلاح دنیا وعقبی ہے۔ یہی تو پہلا گھر ہے جو اللہ نے بابرکت شہر مکہ میں امن والا سلامتی والا بنایا،اس گھر کے علاؤہ کہیں سلامتی نہیں.طواف کعبہ کیا ہے حجر اسود سے استلام سے شروع ہوتا ہے اور حجر اسود کیا ہے، جنت کا پتھر جنت سے لایا گیا ہے اور انسان کا اول گھر بھی جنت ہی تھا۔ اپنا ہی گھر سب کو پیارا ہوتا ہے۔انسان کہیں بھی جائے خواہ دنیا جہاں کی نعمتیں پا لے کتنی ہی آرام دہ خوبصورت عمدہ ٹھکانےمل جائیں مگر ہر انسان کو تانگ، تڑپ اپنے ہی گھر کی لگی ہوتی ہے۔
سکون اپنےہی آنگن میں پاتا ہے۔اےانسان توبھی اپنااصل گھرکیسےبھول سکتا ہے۔طواف کعبہ کاآغازحجراسود سےاوراختتام بھی حجراسودپر۔اے بے خبر کچھ خبر بھی ہےتجھے۔ طواف کعبہ کیا پیغام دے رہا ہے تجھے ؟اے انسان سفر زندگی پورا کر لے پھر لوٹ کرتجھے اپنے ہی گھر آنا ہے۔ اگر اپنے گھر کا رستہ بھول گئے تو پھر سکون تو کیا موت کےبعد موت کو پکاروگےمگر موت بھی نہ مل پائے گی استغفرُللہ ۔
یہ دنیا گول ہے، جیسے کعبے کے گرد گول چکرہیں جس مرکزسےچلےتھےوہیں لوٹ آنا ہے،طواف کعبہ بیت اللہ کےگردگھومنےکا نام نہیں ،چکر پہ چکر نہ کاٹے جا ، اللہ رب العزت کو تیرے ان چکروں کی کچھ حاجت نہیں ۔ گو ساری دنیا ،ساری کائنات بھی اس کے حضور جھک جائے اس کی کبریائی میں اضافہ نہیں کر سکتی۔
ساری کائنات بھی اس کی منکر ہوجائےتب بھی اس کی عظمت وکبریائی میں سوئی کےناکےجتنی کمی نہیں آئےگی،یہ طواف توعلامت ہے،یہ توتربیت ہے کہ اے مومن جب تو جب دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا ،جب تو نےلا الہ الااللہ کا طوق گلے میں ڈال لیا تو پھرتیری حیات و ممات ،شب و روز، پل پل، لحظہ لحظ، قدم قدم، سانس سانس اپنے کرم کرنےوالےرب کا غلام ہوا۔تیری زندگی میں طواف کرنےکی سعی تجھےیہی سبق پڑھاتی ہےکہ جس طرح تو طواف کرتےہوئے اس گھرکےمالک سے نسبت رکھے ہوئے ہے اسی طرح زندگی کے مرحلے میں معاشی، معاشرتی، عبادات معاملات ،حقوق وفرائض، خلوت وجلوت کے راز ونیاز ہوں کہ خوشی وغم کے موسم ،دوست ہوں کہ دشمن خواہشات،آرزوئیں، دکھ سکھ تیری ساری تنابیں سارےتاراسی گھر والے کی رضا سے، حکم سے، اختیار سے،مشروط ہیں تو آزاد نہیں کبھی بھی، کہیں بھی نہیں،یہی درس زندگی ہے۔ یہی منشاء یہی دستور حیات ہے ،یہی مقصود فطرت ہے اور یہی مقصد زندگی ہے ۔
قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین
ترجمہ :بےشک میری نماز ،میری قربانی ،میری زندگی ،میرا مرنا اللّہ رب العالمین کے لیے ہی ہے۔




































