
ماریہ نسیم
حضرت ابراہیم کی شخصیت ساڑھے چارہزارسال گزرنےکےبعدبھی اپنے خاندان اورنام کےساتھ زندہ ہے۔ آپ کی سیرت کو سمجھنے کے لیے اسٹیپ بائی
اسٹیپ آپ کی دی گئی قربانیوں کوسمجھنا ہوگا۔ اللہ نےسیریزآف ایگزامینیشن سےگزارااورحضرت ابراہیم ناصرف پاس ہوئےبلکہ آپ نےاےون گریڈ لیا ۔گولڈ میڈل حاصل کیا جس کے بعد اللہ نے حضرت ابراہیم کو بے تحاشہ اعزازات سے نوازا۔
انہیں اپنی ذات میں پوری اُمت اوراجتماعیت قراردیا۔
آنے والوں پر ان کےاسوہ کی پیروی کولازم قراردیا ۔
ان کے چھوڑے ہوئے شعائر اور طریقوں کو رہتی دنیا تک کےلیےامرکردیا۔
حضرت ابراہیم کوئی معمولی انسان نہیں تھے۔ان کے والد کا دربار میں ایک مقام تھا ،وہ بت تراش تھے،جیسے آج کے زمانے میں مذہبی آفیئر کے منسٹر اور وہ ایک منسٹر کے بیٹے تھے۔ گدی۔۔۔ ایک عہدہ ان کا منتظر تھا لیکن انہیں جب رب کی معرفت عطا ہوئی انہوں نے سب کچھ چھوڑ دیا۔ دولت، شہرت ایک پرسکون لائف اسٹائل وہ تیار ہو گئے، بھڑکتی ہوئی آگ میں کودنے کے لیے۔
کیا کہا ابراہیم علیہ السلام نے!"اللّٰہ ھوامعنا" " اللّٰہ ہمارے ساتھ ہے" جب ابراہیم کو اگ میں پھینکا گیا ،ارشاد باری تعالیٰ ہے ! "یا نارکونی بردو و سلامن علی ابراہیم " "نا صرف ٹھنڈی ہو جا بلکہ سلامتی و عافیت والی ہوجا " جس مالک پر اعتماد و یقین کیا ،اس مالک نے گل و گلزار بنا دیا آگ کو۔
عراق سے نکل کھڑے ہوئےنوڈسٹینیشن مال دولت، رتبہ،گھرسب کچھ چھوڑ دیا رب کی محبت میں لیکن آزمائش ابھی ختم نہیں ہوئی۔ کیا منظر ہوگا وہ جب حضرت ابراہیم اپنے نو مولود بیٹے اور عزیز ترین بیوی کو لق و دق صحرا میں چھوڑ کر جا رہےہوں گے ۔حضرت ابراہیم اونٹ پر سوار آگے آگے اور حضرت ہاجرہ باپیادہ پیچھے پیچھے۔آپ ہمیں کہاں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
کیوں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ہم یہاں کیسے رہیں گے؟ لیکن حضرت ابراہیم خاموش یقیناً آپ کےمنہ سےالفاظ ادانہیں ہورہےہوں گے۔دوردورتک پھیلا خاموش صحرا اور تنہا عورت چھوٹے بچے کے ساتھ اس وقت کا تصور کریں کیا منظر ہوگا وہ۔
آخر حضرت ہاجرہ پوچھتی ہیں؟ کیا یہ اللہ کا حکم ہے ! جواب آتا ہے ہاں ! توکس یقین سےوہ عورت کہتی ہیں"پھراللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا "
اور میرے مالک نے کیسا مان رکھا۔
جو اللہ کے راستےپربےسروسامانی میں بھی نکل کھڑے ہوتے ہیں،اللہ انہیں ضائع نہیں کرتابلکہ ایسی قدردانی کرتا ہےکہ" پتھریلی زمین سےکبھی نہ ختم ہونے والا چشمہ جاری ہو جاتا ہےجو کہ نہ کبھی ختم ہوتا ہےنہ سوکھتا ہےجو کہ غذا بھی اورشفا بھی جواس زمین پر ایک معجزہ بھی ہے۔
اللہ نے ایسا قبول کیا ،اس عورت کا توکل کہ ابھی سےکچھ دن بعد لاکھوں حاجی ان ہی راستوں پر دوڑیں گے جن پر وہ ماں بے قرار ہو کے دوڑی اللہ نے ان کی ادائیں بھی قبول کرلیں،یقیناً میرا رب کسی کی ناقدری نہیں کرتا ۔ابھی کچھ وقت ہی گزرتا ہے کہ باپ سے بیٹے کی قربانی طلب کر لی جاتی ہے۔ اصل بات اس باب میں وہ جواب ہے جو ایک بیٹا اپنے باپ کو دیتا ہے۔ ابا جان ! "ان شاءاللہ آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے" ۔
"سعادت مند بیٹا جھک گیا فرمان باری پر
زمین وآسمان حیران تھے، اس اطاعت گزاری پر" (علامہ اقبال)
یہ کوئی معمولی جواب نہیں، ایسا جواب صرف وہی بیٹا دے سکتا ہے جس کے پیدا ہونے کی دعا اس لیے کی گئی تاکہ "اس کو سرفرازی عطا ہو رشد و ہدایت کا سلسلہ آگے بڑھے"۔
جب والدین کی نیت ایسی ہو تو پھل بھی حضرت اسماعیل جیسا ہوتا ہے۔میرے رب کو مطلوب بس وفاداری ،استقامت اور اخلاص ہے۔ صرف رب کی رضا کے لیے کی گئی کوشش ہے جس کے جواب میں اللہ کامیابی ،غلبہ دونوں جہانوں کی سربلندی اور خلیل اللہ کا درجہ عطا فرماتا ہے۔




































