
ضیاءالرحمن غیور
وہ ایک چھوٹا ساملک تھا لیکن اس کا دشمن بڑے وسائل کا مالک تھا۔اس چھوٹے سے ملک کے پاس وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اس کا سمندر غیر محفوظ
تھا۔اسےڈررہتا تھا کب دشمن حملہ کرکےاس کےسمندر پرقبضہ نہ کرلے۔اس کے پاس صرف گن بوٹس تھیں جو بڑےجہازوں کامقابلہ نہیں کرسکتیں تھیں،ان حالات میں اپنے تحفظ کے لیے۔ جب چھوٹےملک نےایک چھوٹی آبدوزخریدی تودشمن ملک نے اس کا مذاق اڑایا، یہ چھوٹی سی آبدوز ہمارا کیسے مقابلہ کرسکتی ہے۔ ہم اس جیسی ؎کئی آبدوز ڈبو سکتے ہیں۔اس چھوٹے ملک کے لوگوں نےاپنےدشمن کےمذاق کو بڑے تحمل کے ساتھ برداشت کیا لیکن وہ دشمن کو اپنے علاقے میں غیر محفوظ بنانے کی جارہانہ حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہوگئے۔
اس ملک کے فوجی اپنی دفاعی سرگرمیوں میں مشغول اپنےدشمن کی حرکات وسکنات پرنظریں جمائےہرقسم کی کارروائی کےلیےتیارتھے۔چھوٹے ملک کے جاسوسی ادارے کی کارکردگی بے مثال تھی۔وہ دشمن کے سمندر کے اندر موجود ہر چیز کے بارے میں آگاہی رکھتا تھا۔انہوں اپنے ہی سمندر میں دشمن کے ہرقسم کے خفیہ راستوں کے مطابق آبدوز کی مشق کروای تھی تاکہ آبدوز دشمن کی کسی چال کا شکار نہ ہو۔
ایک رات بہت گہری تھی،ہاتھ کوہاتھ سجائی نہیں دےرہاتھا۔سمندرمیں طوفان برپا تھا بلند بلندلہریں اٹھ رہی تھیں اورتیزہوائیں چل رہی تھیں۔اس موقع پر آبدوز دشمن ملک کے حدود میں خاموشی سے داخل ہوچکی تھی۔پہاڑوں کے درمیان سفر مشکل تھالیکن ان کے ملک کےجاسوسی ادارے کی معلومات اتنی صحیح تھیں کہ وہ بغیر رکاوٹ کے سفر کرتے رہے اور کوئی حادثہ نہیں ہوا۔یہاں تک وہ دشمن کے جہازوں کے عقب میں پہنچ گئے۔انہوں نے دیکھا دشمن کے بڑے جہازایک خاص انداز میں کھڑے ہوئے ہیں۔
آبدوز کے ماہر عملہ نے اس کےحدود کا تعین کرکےایک چھوٹی سی مشین نکالی،اس کارخ جہازوں کی طرف کرکےسمندرمیں اتاردی۔تھوڑا فاصلہ طے کرکے ایک اور مشین پانی میں اتار دی۔اس کا رخ بھی جہازوں کی طرف کردیا۔اس طرح انہوں نے تین مشینیں پانی میں اتاری تھیں۔واپسی میں جب چٹانی علاقوں سے گزرے تو ایک مشین چٹان کے درمیان رکھ دی،اس کارخ بھی سمندر سے جہازوں کے گزرنے کے راستے کی طرف تھا۔دشمن غفلت کی نیند کی سورہا تھا اورچھوٹی آبدوزاپنی کام مکمل کر کے روانہ ہوچکی تھی۔ جب وہ اپنے سمندر کے حدود میں آئی تو اس نے دیکھا دشمن کی ایک بڑی گن بوٹ اس کے ملک کی جاسوسی کررہی تھی۔آبدوزسےایک شعلہ نکلا اور گن بوٹ جل کر راکھ ہوگئی۔
چھوٹے ملک کے لوگ اپنی اس کامیابی بڑے خوش تھے۔اپنی گن بوٹ کی تباہی پردشمن حیرت زدہ تھا کہ ان کےسمندرسےآبدوزنےاسےہٹ کیا تھا۔ وہ ایک لمحے کو یہ سوچ کرپریشان تھےکیاہمارا سمندرغیرمحفوظ ہے۔دشمن نے انتہائی متکبرانہ اندازسےاپنےجہازوں کو چھوٹے ملک کو سبق سکھانے کے لیے آگے بڑھنے کا حکم دیا۔جب یہ جہاز چھوٹےملک کی طرف پیش قدمی کررہے تھے تو چٹانوں کےدرمیان رکھی مشین سے دوچھوٹے مہلک میزئل نکل کر دشمن کے دوجہازوں سے ٹکرا گئے۔ان میزائلوں نے جہازوں کو شعلوں کی نظر کردیا۔چھوٹے ملک کے کنٹرول ٹاور کا عملہ اسکرین پردشمن کے دو جہازوں کو جلتا دیکھ کر چلا اٹھا۔ وہ مارا۔۔۔دو جہاز تباہ ہوگئے۔ دوجہازوں کی تباہی دیکھ کر دشمن اپنے جہازوں کو محفوظ مقام پر لے جانے پر مجبو ہو گیا۔




































