
ام محمد
ہمیں ہمیشہ دوسروں کے لیے آسانی والا معاملہ کرنا چاہیے،اپنی وجہ سے کسی کو تکلیف نہ دیں ا اور اگر اللہ ہمیں کوئی
اقتدار دے ،اللہ ہمیں کوئی مقام دے ،یا اللہ ہمیں کوئی عہدہ دے تو ہمیں اس کو ذمہ داری کے ساتھ اچھے طریقے سے نبھانا چاہیے جس سے اپنی ذات کے علاوہ اپنے ارد گرد کے افراد کے لیے بھی آسانی ہو ۔ یہ مشکل کام ہے ،خود کی ذات کو چھوڑ کر دوسروں کے لیے آسانی کرنا بہت سی جگہ پر ہم چاہتے ہیں مگر کرنہیں پاتے ۔ دعائیں بھی کریں کہ اللہ پاک ہم سے آسانی والا معاملہ کروائے ۔
سب سے بہترین دعا کونسی ہو تی ہے۔۔۔
جو ایک مومن دوسرے مومن کی غیر موجودگی میں اس کے لیے کرتا ہے , اس کے حق میں وہی دعا فرشتےکرتے ہیں۔۔۔۔ایک دوسرے کی عزت کرنا درگزر کرنا آسانی کرنا بہترین معاملات ہیں۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب ان کو اقتدار ملا تو ان میں بہت زیادہ عاجزی آگئی تھی ۔ حضرت عمر فارق نے اپنی ذات کو لے کر بہت قربانیاں دیں ۔ حضرت عمر جیسی قربانی ہم دے بھی نہیں سکتے۔ان کا سب کچھ اللہ کی رضا کے لیے تھا اور جب ہم اللہ کی رضا کے لیے کوئی کام شروع کرتے ہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ ہماری ذات میں صبر اور ٹھہراؤ آ جاتا ہے ۔صرف ایک اللہ کی رضا پر کھڑے رہنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمارے راستے بھی آسان کرتا ہے اور راستوں کو ہمارے تابع بھی کرتا ہے ۔
حضرت عمر فاروق کے بارے میں آتا ہے رومن ایمپائر کو شکست ہوئی، یروشلم مسلمانوں کے ہاتھ میں آیا تو حضرت عمر فاروق نے ارادہ کیا وہاں جانے کا وہاں کی چابیاں ان کو ملنی تھیں تو حضرت عمر فاروق نے جو سفر کیا وہ بہت لمبا تھا۔وہ اپنے غلام کےساتھ سفر پر چل پڑے ۔اونٹ دونوں کے پاس ایک ہی تھا۔ اب کیا ہوا کہ کبھی حضرت عمر اونٹ پہ بیٹھتے اور کبھی ان کا غلام ۔۔۔یعنی اپنی اپنی باری پر کسی ایک کو تکلیف نہ ہو۔۔۔ جب بھی آپ نے کسی شہر میں جانا ہوتا تو ان کے بڑے بڑے دروازے ہوتے تھے ، حضرت عمرفاروق جب یروشلم کے قریب پہنچے وہاں تو وہاں حضرت عمر کو چابیاں پکڑانے کے لیے لوگ کھڑے تھے ۔ حضرت عمر جب دروازے میں داخل ہونے والے تھے تو اس وقت وہ پیدل چل رہے تھے ۔غلام اونٹ پر تھا،آپ سوچ سکتے ہیں ،خلیفہ وقت اور پیدل ۔۔۔منزل سامنے ہے افراد انتظار میں ہیں ۔۔۔ وقت کے خلیفہ کے پاؤں گرد آلود، بال بکھرے ہوئے ،منہ پر مٹی کے نشان ، انتی عاجزی اتنا جھکاؤ ۔۔۔ غلام اونٹ پر سوار ہے خود پیدل ہیں ۔۔۔غلام کو اتارا بھی نہیں ۔۔۔
یہ قصہ پڑھنے میں آسان ہے کبھی سوچا ہم نے وہاں ہوتے کیا کرتے؟؟؟؟ غلام کو اتار کےخود بیٹھ جاتے ۔ ہم اپنی زندگی میں بہت سے معاملات میں لوگوں کی واہ واہ چاہنے کے لیے ارد گرد کے افراد کو تو تکلیف دیتے ہی ہیں مگر سب سے بڑی بات یہ کہ اپنی ذات کو کھوکھلا کر رہے ہوتے ہیں۔۔
صحابہ کو تو پتا تھا ،یہ خلیفہ ہیں مگر باقی سب کوپتا نہیں تھاکہ یہ خلیفہ وقت ہیں۔۔
حضرت عبیدہ بن جراح نے جب یہ دیکھا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ائے اور آہستہ سے ان سے کہا کہ آپ نے ہمیں شرمندہ کر دیا ہےکہ ہمیں شرمندگی محسوس ہوئی ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بہت پیارا جواب دیا ،انہوں نے کہا کہ ہمیں عزت اسلام نے دی ہے۔ اونٹ گھوڑوں پر بیٹھنے سے اچھے کپڑے پہننے ،مال و دولت سے عزت نہیں ملتی۔ ہمیں تو عزت مل چکی ہے اور وہ اسلام کی وجہ سے ۔۔۔ کسی اور وجہ سے نہیں۔۔۔۔ہم اللہ کے احکام ،اپنے اسلام کو چھوڑ کر جہاں جہاں عزت تلاش کریں گے وہاں وہاں ہی ہم ذ لیل ہوں گے ۔ آج ہم مادہ پرستی کو چاہنے والے بت بن چکے ہیں۔خواہشات کے انبار ہیں ،چاہے کسی کی عزت نفس کو کچل کر ہمیں کچھ چاہیے تو بس ہمیں چاہیے ۔۔۔ ہم اپنی ذات سے باہر آہی نہیں پا رہے ۔ہمارا اسلام ہمیں اخوت بھائی چارہ ایثار درگزر سیکھاتا ہے اس کو چھوڑ کر انا پرستی، ضد اور تکبر میں مبتلا ہوں گے تو خود کی ذات کو تو نقصان پہنچائیں گےساتھ ایمان کی لذت سے بھی محروم کر دیے جائیں گےاورجو ایمان کی لذت سے محروم کر دیا گیا وہ ہر خیر سے محروم کر دیا گیا۔




































