
ام محمد عبداللہ
”امی جی!“ جیسے ہی بجلی گئی، عنبر کی آواز سارے گھر میں گونجی۔ وہ اسٹور روم میں اکیلی تھی۔
”کاکروچ! کاکروچ!“ اس کی گھبرائی ہوئی آواز پھر سے سنائی دی۔
”عنبر آپی! ہلنا مت، کاکروچ اندھیرے میں بندوں کو کھا جاتا ہے۔“
عنبر کا چھوٹا بھائی، چھ سالہ حسن، شوخی سے مسکراتا ہوا اپنی ٹارچ لے کر بہن کی مدد کو حاضر تھا۔
آخر آج ہی تو اس نے علامہ اقبالؒ کی نظم "ہمدردی" یاد کی تھی
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروں گا
اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
عنبر نے روشنی دیکھ کر اطمینان کا سانس لیا اور ہنستے ہوئے کہنے لگی
”حسن! تم تو جگنو ہو جگنو! میرے پیارے بھائی۔“
”جگنو بھی ٹھیک ہےلیکن میں تو شاہین بنوں گا، آسمان پر جہاز اُڑاؤں گا۔“
حسن نے ہاتھ کے اشارے سے "زوں" کرتے ہوئے جہاز اُڑایا۔
کچھ دن گزرے، تو گھر میں سب بے چین ہو گئے۔
حسن نہ جانے کیوں بیمار رہنے لگا تھا — رنگت زرد، جسم کمزور، بار بار بخار، تھکن
امی (اسماء) اور ابو (احمد) بہت پریشان تھے۔ کبھی دم کرتے، کبھی کوئی گھریلو ٹوٹکا آزماتےلیکن جب کوئی افاقہ نہ ہوا، تو مجبوراً ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا۔
ڈاکٹر نے معائنہ کیا، مختلف ٹیسٹ کروائے۔جب رپورٹس آئیں، تو اسماء اور احمد کی دنیا ہی اندھیر ہو گئی۔حسن کو تھیلیسیمیا میجر تھا — ایک مہنگا، تکلیف دہ علاج، ہر ماہ خون کی بوتل چڑھوانی پڑتی۔رشتہ دار تیمارداری کو آنے لگے۔ باقی سب تو ٹھیک تھا لیکن چچی جان کی منفی باتوں نے سب کو دکھی کر دیا، ان کی باتوں سے لگتا جیسے حسن کا اب کوئی علاج ہی نہ ہو۔
”نہیں نہیں بھابھی، ایسا نہ کہیں!“
اسماء کا دل کانپ جاتا
آج بھی جب چچی جان کی باتوں کا سلسلہ شروع ہوا، تو عنبرسےرہانہ گیا۔وہ پھٹ پڑی۔”میرا جگنو بھائی شفایاب ہوجائےگا۔شفا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ چچی جان! چند دنوں کی بات ہے، میں اور حسن مٹھائی لے کر آپ کے گھر آئیں گے۔ میرا اللہ میری دعائیں رائیگاں نہیں جانے دے گا۔“
چچی جان سکتے میں آگئیں اور تیمارداری سےبھی ہاتھ اُٹھا لیا۔اب حسن کو ہر 20 دن بعد خون چڑھوانا پڑتا تھا۔اسپتال جانا، لمبی قطار میں کھڑا ہونا، بلڈ ڈونر تلاش کرنا
اور حسن کو درد سے گزرتے دیکھنا، اسماء کے لیے آزمائش بن گیا تھا۔
بلڈ ٹرانسفیوژن کے ساتھ ساتھ حسن کے جسم میں آئرن بڑھنے لگا، جو دل، جگر اور دیگر اعضا کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔اب ایک اور مہنگی دوا کی ضرورت تھی۔
اسماء بےقرار دل لیے گھر میں چکر کاٹتی رہتی تھیں،انہیں معلوم تھا کہ احمد کےپاس اتنےپیسےنہیں تھےاوور ٹائم بھی کافی نہ تھا،گھرمیں کچھ ایسا نہ تھاجسے بیچ کر اخراجات پورے کیے جا سکیں۔
”امی جی!“
عنبر اداس چہرہ لیے اسماء کے قریب آئی۔
”میری کالج کی سہیلی نے یہ کتاب دی ہے۔“
یہ ایک سبز رنگ کی، میرون حاشیوں والی کتاب تھی
"شفا کی دعائیں"
عنبر نے بتایا
”امی، میری سہیلی کہہ رہی تھی کہ ہماری اساتذہ حدیث سناتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کا علاج نہ ہو۔علاج دوا سے بھی ہو سکتا ہے۔ دعا سے بھی، اور دونوں سے بھی۔“
عنبر نے موبائل پر اساتذہ کا لیکچر چلا دیا:
”اللہ تعالیٰ سے تکرار اور اصرار کے ساتھ دعا مانگیں، کبھی اسمائے حسنی کا سہارا لیں، کبھی اپنی نیکیوں کا حوالہ دیں، اور کبھی گناہوں کا اعتراف کر کے معافی مانگیں۔“
ان باتوں سے اسماء اور عنبر کو تسلی ہوئی۔
ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے،اسماء اللہ کو پکارنے لگیں۔۔۔
"اللّٰهم يا عليم، يا حليم، يا عظيم، يا علي، میرے حسن کو شفا عطا فرما دیجئے!"
وہ اپنی چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو یاد کرتیں — کبھی صدقہ، کبھی خیرات، کبھی پانی پلانا، کبھی کسی کو تحفہ دینا،پھر وہ اپنےگناہوں کو بھی یاد کرتیں— کسی کا دل دکھانا، غصہ کرنا، غیبت کرنا،وہ اللہ کے حضور اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے بار بار دعا مانگتیں۔۔۔
"یا رب! میرے گناہ معاف کر دے،میرے بیٹے کو شفا عطا فرما!"۔۔
یہی ان کا معمول بن گیا
رات کے پچھلے پہر وہ سراپا دعا بن جاتیں
ایک دن حسن نے پوچھا
”امی! مجھے بہت خطرناک بیماری ہے نا؟ میں زندہ نہیں رہوں گا؟ میں بڑا نہیں ہو پاؤں گا؟ میں جہاز نہیں اُڑا سکوں گا؟“
اسماء کے حلق میں آنسوؤں کا گولہ سا پھنس گیا۔ ان سے کچھ بولا ہی نہیں گیا۔
ایسے میں عنبر آگے بڑھی اور حسن کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے نرمی سے کہنے لگی۔۔۔
”پیارے بھیا! تمہیں معلوم ہے حضرت ایوبؑ بہت بیمار ہو گئے تھے۔ انہوں نے اللہ سے دعا مانگی اور اللہ نے انہیں شفا دی۔“
”کیا حضرت ایوبؑ کو بھی تھیلیسیمیا تھا؟“
حسن نے معصومیت سے پوچھا۔
عنبر مسکرائی
”شاید نہیں۔ مگر ان کی بیماری اس سےبھی سخت تھی۔
پیارے بھائی! تم بھی دعا کرو، اللہ تمہیں بھی شفا دے گا۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“
حسن نے آنکھیں بند کیں اور دل میں پڑھنے لگا:
رب اَنِّىۡ مَسَّنِىَ الضُّرُّ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ
چند دن بعد ڈاکٹر نے بون میروٹرانسپلانٹ کی تجویز دی۔
ڈونر کی ضرورت تھی
عنبر نے اپنا نام پیش کیا
اللہ نے کرم کیا —نہ صرف عنبرکا میچ ہو گیا بلکہ اخراجات کاذمہ بھی احمد جس کمپنی میں ملازمت کرتے تھے اس کےافسران نے اٹھا لیا۔
پھر وہ دن بھی آیا جب ڈاکٹر نے مسکرا کر بتایا”حسن بہتر ہو رہا ہے۔ نارمل زندگی کی طرف واپس لوٹ رہا ہے۔“
کچھ دن بعد حسن مکمل طور پر شفایاب ہوگیا۔وہی پیارا سا جگنو،اسکول کا بستہ اُٹھائے، شاہین بننے کے عزم کے ساتھ اسکول جا رہا تھا۔
اس تکلیف دہ آزمائش نے احمد، اسماء، عنبر اور حسن کو اللہ کے بہت قریب کر دیا۔
انہوں نے جانا کہ:"اللہ تو ، اللہ المجیب ہے،جودعاؤں کو قبول کرتا ہےاورتکلیفوں کودورفرماتا ہے۔پس ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اس کی اطاعت و فرمانبرداری کریں۔




































