
انیلہ سعدیہ / گوجرہ
ماہِ ذوالحجہ سےحاصل ہونے والا سبق شعوری عمر سے لے کر اب تک کئی ماہ ذوالحجہ دیکھے۔عمر کےساتھ ساتھ عقل و فہم میں اضافہ ہوا،کچھ مطالعہ کا شوق تھا تواسی لیے بہت
سارے اسرارورموز سمجھنے کا موقع مل گیا ۔اب اسی بات کو لیں کہ ہم ہر سال عید قرباں مناتے ہیں کیوں؟ یہ سوال ہمارے ذہنوں میں کتنا آیا اور کتنا اس کا جواب کھوجنے کی کوشش کی۔ چلیں آج ہم اس کا جواب جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ جاننے کی بھی کہ ماہ ذوالحج سے ہمیں کیا اسباق ملتے ہیں۔
سب سے پہلےتوحضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی سیرت ہمارے سامنےآتی ہے۔کیا باپ تھے اورکیابیٹےاور کیسی بیوی جنہوں نے اللہ کی رضا کی خاطر اپناسب کچھ قربان کر دیا ۔
ماہِ ذوالحجہ اسلام کےعظیم مہینوں میں سےایک ہے جو ہمیں قربانی، اتحاد، ایثاراوراطاعت کا درس دیتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنتِ قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی سب سے عزیز چیز بھی قربان کی جا سکتی ہے۔ یہ مہینہ ہمیں تقویٰ، صبر اور شکرکے جذبات اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔
ذوالحجہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دین اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ مکمل طرزِ زندگی ہے،حج کا عمل پوری امتِ مسلمہ کو وحدت، مساوات اوربھائی چارے کا پیغام دیتا ہے۔ ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ دنیاوی فرق جیسے رنگ، نسل، زبان یا مقام، سب اللہ کے ہاں بے معنی ہیں، اصل قدر تقویٰ اور نیت کی ہے۔
ذوالحجہ میں کی جانے والی عبادات، خاص طور پر پہلے دس دنوں کےاعمال، ہمیں نیکیوں کی قدر اور وقت کی اہمیت کا سبق دیتے ہیں۔ یہ ایام ہمیں سکھاتے ہیں کہ نیکی کے لیے جوش و جذبہ ہر حال میں قائم رہنا چاہیے۔یوں یہ مہینہ ہمیں اللہ سے قربت، انسانیت سے محبت اور اپنے نفس پر قابو پانے کا عظیم پیغام دیتا ہے۔




































