
نائلہ تبسم
ہم سب جانتے ہیں سورہ یسٰین کو قرآن کا قلب یعنی دل کہاجاتاہےاور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کےمطابق اپنے مرنے والوں پر
سورہ یسین پڑھا کرو۔
اس سورہ کے فضائل اورمضامین کا احاطہ کرنا انسانی ذہن کے لئےممکن نہیں مگر جو موٹی موٹی باتیں سمجھ میں آتی ہیں وہ یہ ہیں کہ
کل انسانیت کی بقا اس میں ہےکہ وہ خود بھی سیدھےراستے پرچلےاورساری زندگی دوسروں کوبھی اسی راستےکی طرف بلائے دنیا میں کسی سے دوستی رکھےتو بھی اللہ تعالیٰ کے لئے ،اگر دشمنی رکھے تو بھی اللہ کے لئےاور بستی کی مثال دے کر سمجھایا کہ جان پر بھی بن آئے قتل کا بھی اندیشہ ہو تو حق بات کہنے سے نہ ڈرے یعنی نجات ہی اسی میں ہے کہ نفس کی غلامی نہ کرے ۔ساتھ دو کردار ایک وہ جو بن دیکھے رحمان سے ڈرے اور دوسرا وہ جسے نصیحت کی جائے یا نہ کی جائے اس کے لیے برابر ہے ۔فیصلہ مجھ پراور آپ پر چھوڑ دیا جس راہ کو چاہے اختیار کر لو۔
آخر میں توحید کے دلائل کے ساتھ خاتمہ کلام کہ روزقیامت زندگی کی کمائی ملنی ہی ملنی ہے۔آخری وقت سےپہلے توبہ کرکے سیدھا راستہ اختیار کر لو۔
ابن آدم کی کل زندگی کا نچوڑ اس سورہ میں واضح ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین




































