
پروفیسر سعید حسن قادری
سابق صدر شعبہئ اُردو‘وفاقی جامعہ اُردو، کراچی
”نثرِ اختر“استاد الاساتذہ پروفیسر ڈاکٹر یونس حسنی صاحب کی مرتب کردہ تصنیف ہے اس مرتب کردہ تصنیف میں ڈاکٹر صاحب نے بڑی تگ ودو سے اختر
شیرانی کے چیدہ چیدہ نثری ادب پارے یکجا کردئیےہیں,اس سےپہلے بھی ۰۱۰۲ء میں ڈاکٹرصاحب نےنگارشاتِ اخترکےنام سےایک نثری مجموعہ تحریرو مرتب کیاتھا۔
اب یہ کتاب نثراخترجوکہ زیرِمطالعہ ہے،اس میں شامل مضامین کی تعدادپینتیس(۵۳)ہے ضخامت کےاعتبارسے ۶۱۳ صفحات پر مشتمل ہے۔
بقول ڈاکٹر یونس حسنی صاحب
”میں نے انتہائی عرق ریزی، تلاش کیے بعض اس وقت میسر آئے تھےجب ابھی تک فوٹو اسٹیٹ کی سہولت میسر نہیں تھی اورمضامین کو ہاتھ سے لکھنا پڑا“
اب کتاب نثراخترکےمندرجات دیکھتےہیں جس کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ ان کو چار ذیلی عنوانات دے کر اس طرح تقسیم کیاگیا ہے
عالم ِادب: خیالات ابن یمین، ایک افغان شاعرہ،رین بسیرے کا تھیٹر، ایک دوست کا ماتم، چند گھنٹے سعدی (مرحوم) کے ساتھ، پروفیسر براؤن، ایرانی شاعر عارف کی آپ بیتی،ٹیگور ایران میں، قدیم یونان کا ملک الشعراء ہومر، ایلیڈ، ہومر ایک غیر فانی شاہکار‘ غالب کا اسیریہ
سر سید کی ایک غیر معروف تالیف، عشق کی پہلی غلطی(گیٹے کاروماں)، خیام اپنے خدا کے ساتھ‘ خوابِ پریشاں،۔۔۔۔ کیا ہمارا تھیٹر ناکام ہوچکا ہے؟
آرٹ، خان شہیداوراس کے نوحے(افکار وخیالات)
خیالات و افکار:۔دنیا کے مختلف حصوں میں خواتین کی حالت، عورت اوراس کااثرمردپر،فن تقریر،بچہ اورکھیل
اوراقِ پارینہ، دیوار ِ چین، ایوان مدائن، ایک غرق شدہ سرزمین، یورپ کی ایک عجیب جماعت، دنیا کا سب سے پہلابالشویک، نئےایران کا نیا بادشاہ
، ٹیپو سلطان کی شہادت گاہ، سقوط ماکوت العمارہ، ایران کا ایک دلچسپ سفر، جدیدفلسفہئ تاریخ
شکاریات: واقعاتِ شکار،جہاں گیرکاآخری شکار، سلطان ملک شاہ سلجوقی کا شکار
ڈاکٹر یونس حسنی کےالفاظ میں ان کےاسلوب پر اظہاریہ
”اختر شیرانی کا جو نثری سرمایہ موجود ہے اس سے ان کےاسلوبِ نگارش کےمختلف انداز ملتے ہیں،ایک تو وہی ہےجسےہم ادبِ لطیف کہتےہیں۔یہ اندازِ تحریر شاعری سے زیادہ متاثر طور پر اور اس سے قریب ہوتا ہے اس جذبات کی فراوانی الفاظ کے سانچے میں اس خوبی سے ڈھالی جاتی ہے کہ نظم و نثر کا امتیاز ضم ہونے لگتاہےاورنثر میں نظم کی سی شیرینی پیدا ہوجاتی ہے۔
”دوسرا اسلوب ادق اور علمی نوعیت کا ہے یہ موضوع کا تقاضا ہوتا ہے اور خالص علمی مضامین میں اپنی جلوہ گری کرتا ہے۔“
”تیسرا اسلوب عام فہم، سادہ مگرادبی لہجہ و انداز کا حامل ہوتا ہے یہ اسلوب صحافتی وادبی تحریروں میں زیادہ موزو ہوتا ہےاس لیےاخترنے اس کو زیادہ برتا ہے۔ یہ ان کے قاری کے لیے قابلِ فہم اور لائق توجہ تھا۔“
استاد محترم کی محبت کا اظہار ہے کہ اس پیرانی سالی کے باوجود نثر اختر کا تحفہ اردوادب میں کسی اضافہ سےکم نہیں۔
٭٭٭




































