
نیرنگِ خیال / عریشہ اقبال
آزمائش خدا کی طرف سے ہے،اس احساس کا ہونا اپنی جگہ درست ہےمگر اس احساس کےذریعےشیطان کے اس بہکاوے کو شکست نہ
دینا غلط ہے کہ آزمائش دی تو اللہ نے ہےلیکن آزمائش میں کامیابی حاصل کرنےیاناکام ہونےکااختیارمیں لوگوں کے ہاتھ میں دے دوں۔دنیا سے بے غرض ہو کر رب کا بندہ بننے میں اور دنیا کے لیے بے غرض ہو کر اللہ کی بات کا انکار کرنے میں واضح فرق ہے۔ اس فرق کو سمجھنا بہت اہم ہے۔
مخلص ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ پر لگائے جانے والے بہتان اور الزامات کا جواب نہ دیا جائےاور جب یہ المیہ دیکھتی ہوں کہ اکثریت کی رائے مخلصی سے متعلق یہ پائی جاتی ہے کہ جو فرد کسی شخص کے ساتھ مخلص ہوگا، وہ ہمیشہ اس کی زندگی میں ایک مظلوم کی حیثیت اختیار کیے رہے گا۔ جب اس شخص کا دل چاہے گا اُسے لوگوں کے درمیان رسوا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا، دوسروں کے دل میں اس شخص کو لے کر نفرت کا الاؤ بھڑکانے کی کوشش کرےگا اورسامنےوالا فرد جولوگوں کی نظرمیں مخلص ہے — یہ بھلا کے خاموشی سے بیٹھا رہے گا کہ وہ لوگوں کی نگاہ میں ایک انتہائی مخلص شخص ہے مگر اپنے رب کی نگاہ میں بہرحال ایک ظالم ہے۔
صبر یقیناً اجرِ عظیم کی جانب بڑھنے کا راستہ ہے اور توکل اس راستے پر بنی ہوئی شاہراہ، مگر یہ یاد رکھیے کہ اکثر اوقات آپ اپنی ذات کو، اپنی شخصیت کو اور تو اور، اپنے خلوص کو لوگوں کے مطابق اور لوگوں ہی کی نظر سے دیکھنے کی کوشش میں اپنی ساری توانائیاں خرچ کر دیتے ہیں کیونکہ شاید آپ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ احساسِ جواب دہی کا معاملہ دارِ آخرت میں اللہ رب العزت کے سامنے پیش نہیں ہوگا بلکہ جزا و سزا کا فیصلہ انسانوں نے کرنا ہے! اجر کی امید آپ نےاپنےرب سےنہیں بلکہ اس کی مخلوق سے رکھی تھی۔
لہٰذا یہ بات سمجھنے کی ہے کہ مخلصی کا دعویٰ اور اس دعوے میں موجود سچائی کی ایک ہی صورت ہے کہ میں اپنے رب سے مخلص ہو جاؤں، کسی کے بیان و گمان سے اپنے خلوص پر شک نہ کروں۔ اگرمیرا دل کسی شخص کے لیے صاف ہے اور میں اس شخص سے مخلص ہوں تو مجھے یہاں اپنی مخلصی کو اس پیرائے میں جانچنا ہے کہ یہ اخلاص میرے رب کے لیے ہے یا پھر مجھے اس کا اجر اس کے بندے سے چاہیے؟
کیا میں اپنے عمل کی بنیاد اس بات کو بنا لوں کہ لوگوں کی پھیلائی جانے والی بدگمانیوں اور شرور، نیز میری راہ میں بچھائے جانے والے جالوں کو قبول کرکے خاموشی سے مخلصی کا لیبل اپنےاوپرلگاکرخود کوصحیح سمجھ رہی ہوں؟ تو یقیناً یہ انداز درست نہیں ہے اور مخلصی کا دعویٰ ہرگز بھی سچا نہیں کیونکہ ظلم سہنےوالا مظلوم نہیں، ظالم ہوتا ہے۔
قرآن کا صبر اور توکل، انسانی تدبیر اور حق کا راستہ اختیار کرنے کا نام ہے — نہ کہ خاموشی سے بیٹھ کر ان بچھائے جانے والے جالوں کے سامنے اپنی ذات کو قربان گاہ بنا لینا۔
جدوجہد ہی ایمان کا تقاضا ہے،اگرآپ کےحوالےسےکوئی فرد ایسی بات کر جائے اور آپ کی ذات سےکسی ایسے عمل کو موسوم کر دے جس عمل کا ارتکاب آپ نے کبھی کیا ہی نہ ہو، تو آپ پر لازم ہے کہ آپ دلائل کےذریعے تدبیرسےکام لیں،ان پھیلائی جانے والی بدگمانیوں کا جواب مضبوطی سے دیں اور ساتھ ہی توکل اور صبر کا راستہ اپنا کر، اپنےرب سےمسلسل مدد طلب کرتے رہیں۔ وہ آپ کو وہی راستہ دکھائے گا جو آپ کے حق میں مخلصی کا صحیح حق ادا کروانے والا ہوگا اور حق کو حق کر دکھائے گااور باطل کو یقیناً حق کی ضرب لگے گی، إن شاء اللہ ۔کیونکہ حق آیا ہی غالب آنے کے لیے ہے۔ مغلوب ہونے کے لیے نہیں،لہٰذا یہ سمجھ لیجیے کہ مخلص شخص کے سر پر وہ تاج ہوتا ہے جو روزِ قیامت چمکنے کے لیے بنایا گیا ہے،بشرطیکہ آپ کا دعویٰ سچا اور آپ کا عمل کھوٹا نہ ہو۔ یہ کوئی کٹورا نہیں ہے کہ آپ اس کٹورے میں صفائیوں کا سامان بھر کر لوگوں سے رحم کی اور بدگمانی کو دور کرنے کی بھیک مانگتے پھریں گے۔
آپ کو بس اپنے رب سےمانگنا ہےاوراس یقین سےمانگناہےکہ وہ اپنے بندے کوان جال سازوں یا شر انگیزیوں اور لگائے جانے والے جھوٹے بہتان — جو حقیقت سے دور ہوں، جن کی بات میں صداقت کا ایک لفظ نہ ہو —ان کے حوالے کیسے کر سکتا ہے؟ جبکہ اس کے بندے نے اپنے اخلاص اور اپنے باطن کی حفاظت میں خود کو کھپا دیا ہو! اللہ تعالیٰ ہم سےایسا خلوص نہیں چاہتے کہ وہ ہمیں دارِ آخرت میں رسوا کر دے۔ اللّہ ہم سے ایسا خلوص چاہتے ہیں جو روزِ جزا ہمارے حق میں بہترین ثمرات سے نوازے جانے کا باعث ہو، نہ کہ جہنم کا ایندھن بننے کا۔
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو اپنا قرب عطا فرما دے، آمین یا رب العالمین۔




































