
ماریہ حسان
"میری دو ہفتے کی بیٹی کا سر نہیں مل رہا۔۔"
یہ الفاظ مسلسل میرے کانوں میں ہتھوڑے کی طرح برس رہےہیں۔.کوئی نوالہ اطمینان کا حلق سے نہیں اتر رہا۔۔رات اک شارٹ ویڈیو میں سنا گیا یہ پہلا جملہ، میری آنکھوں کے سامنے مستقل گشت کر رہا ہے۔ مجھ سے تو اس سے آ گے کے الفاظ بھی نہیں پڑھے گئے۔۔ یا ربی!
مجھے لگ رہا ہے یہ میزائل، یہ بم، یہ شعلےاچانک میرے گھر پر گرنےوالےہیں،میری نگاہ میرے بچوں کےوجود سےلپٹی جارہی ہے،ایسا نہ ہو کوئی میزائل میرے کمرے کی چھت گرادے اور میرے بچے۔۔۔
نادانستہ اپنے ڈیڑھ سالہ بچےکےسر کو ہاتھ لگا لیتی ہوں پھردل کو چین آ تاہےکہ اللہ تیراشکرمیرابچہ ٹھیک ہےمگر یا اللہ رحم !۔۔۔۔ میں اس منظر کو سوچنا بھی نہیں چاہتی لیکن میرا ضمیر مجھےپل پل کہہ رہاہےکہ میں اسے یاد کروں،میں ان اذیتوں کو محسوس کروں ،میں ان سے عبرت لوں۔۔
"پوری امت ایک جسم کی مانند ہے،جسم کےکسی ایک حصےکوچوٹ پہنچتی ہے تو پورا جسم درد سے چیخ اٹھتا ہے۔"
وہ فلسطین کی کسی ایک ماں کی بچی نہیں تھی۔وہ پوری امت کی بچی تھی۔۔۔۔ہاں ! پوری امت مسلمہ کا سر نہیں مل رہا۔۔
ہاں ان نام نہاد مسلمان حکمرانوں کا سر نہیں مل رہا۔۔ جبھی تو۔۔ان کی آنکھیں نہیں ہیں جن سےوہ ان کی جلتی لاشیں دیکھیں، ان کے کان نہیں ہیں جن سے وہ ان کی چیخیں سنیں۔۔ آ نسوں مستقل ان رخساروں پہ گرتےہیں دل کو قرار نہیں آ رہا۔۔کس طرح اس ماں کو قرار آ ئےگا؟؟؟
میں کیسے اس کی بچی کا سر ڈھونڈ کرلادوں کہ اسےچند لمحوں کا قرار آجائے۔۔وہ اس کی پیدائش کی خوشی منانا چاہتی تھی۔ وہ دو ہفتے کی نومولود بچی,آہ ۔..!
میرے اور آ پ کے سامنےمہینوں سےایسےواقعات، خبریں ویڈیوزگاہےبگاہے نظروں سےگزررہی ہیں،پوری دنیا بیک وقت اس منظر کو دیکھ رہی ہے، کٹی جلتی لاشیں، ملبے ،راکھ ۔۔قیامت روز ان پر ٹوٹ رہی ہے۔وہ زندہ بچ بھی گئے تو وہ کیسے زندہ رہ پائیں گے؟؟ ہماری زندگی کا کوئی بھی خوفناک واقعہ ہمارے ذہنوں سے فراموش نہیں ہوتا ۔۔فلسطین میں ہونے والا سنگین قتل عام تاریخ کیسے بھولے گی؟؟ زمین ان کی لاشیں سمیٹ سمیٹ کر تھک چکی ہے۔ یا اللہ ان کافروں کے ہاتھ روک دیں ۔۔ان کو فرعون کے لشکر کی طرح غرق کردے،ان کا حال ہاتھی والوں جیسا کردے۔ بےشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔آمین
ہمارے آ رام دہ کمرے ،پرسکون زندگی،ملبوسات، انواع و اقسام کے کھانے،ہم سے یہ سوال کرتےہیں؟ہم کتناان کی تکالیف کو محسوس کر رہے ہیں؟ ہمارے مال میں انکا کتنا حصہ شامل ہے؟ ہماری روز و شب کی دعاؤں میں فلسطین کا کتنا ذکر ہے؟؟ ۔۔اصل میں تو یہ آزمائش ہماری ہے،ہم اللہ کے ہاں کیسے بچ پائیں گے؟، وہ تو شہیدہوگئے،امرہوگئے۔۔ایسےکئی کٹے سراللہ کے ہاں سرخ رو ٹھہرے۔۔انہوں نے تو بہترین سودا کرلیا ۔۔جنت الفردوس کا سودہ،جس کی زندگی ہمیشگی کی ہے۔۔ان شاءاللہ




































