
صبا احمد
سن دوہز ار انیس میں بھارت نے شق 370اور 35A کو منسوخ کرکے کشمیر میں گورنر راج قائم کر دیا جس کے مطابق 35A آخری کشمیری ڈوگرہ راج کے ڈوگر راجہ ہری سنگھ نے یہ
قانون پاس کروایا کے کوئی غیر ریاستی باشندہ یہاں زمین نہیں خرید سکتا مگر اب ان کی خود مختاری کو ختم کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ اب کشمیر ترقی کرے گا ،بھارت سے لوگ یہاں زمین خرید کر صنعت لگائیں گے ۔ اس کی معیشت وتجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ بھارت سے یہاں نوجوان نوکریاں بھی حاصل کریں گے ۔کشمیری نوجوان کو بے روزگار کردیا ا گیا ور نو لاکھ فوج بھی ان پر مسلط کردی گئی ہےجو ان پرظلم وستم کرتے ہیں، مارتے پیٹتے ہیں انہیں شہید کردیتے ہیں، خواتین کی عصمت دری کرتے ہیں ،بیوہ خواتین اور یتیم بچے بے یارو مدد گار ہیں ۔
سرکاری زبان اردو کو ختم کرکےہندی رائج کردی ،پہلے ملازمین اس رسم الخط سے ناآشنا تھے،اب ان کی تعلیم بھی رائیگاں گئی اور بچے کتنےسالوں سےگھروں میں بیٹھے ہیں ،اسکول بند ہیں ۔
یونیورسٹیز اورکالج کے دروازے مسلمانوں کےلیےبند ہیں،اپنے حقوق کے لیےآواز اٹھائیں تو دہشت گردی کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ تجارت کے لیے ان کے پاس سیب، کچنار اور دوسرے پھل تھے ، کاشت کاری ان کا ذریعہ معاش تھی جسےختم کردیا گیا ہے ۔اب سیب وہ باہر منگواتا ہے،پہلے پورا ہندوستان استعمال کرتا تھا وہاں کے مقامی لوگ بھوک اور غربت کے ساتھ قید میں ہیں ۔ سوشل میڈیا لینڈ لائن فون بند ہیں ۔دنیا سے ان کا رابطہ منقطع ہے۔ جیسے اسرائیل نےفلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کیا ،اب انہیں بھوک اور قحط سالی کا شکار کر کے ان کی زندگیوں کے چراغ گل کیے جا رہے ہیں ۔ اسرائیلی ان کی سر زمین پر قابض ہیںج ،اس ساری صورتحال سےمسلم دنیا بے خبر ہے۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے یہ قائد اعظم نے کہا تھا ۔
بھارتی فوج پاکستانی شہریوں پر حملے کرتی ہے ،ابھی 10 مئی کو پہلگام واقعہ کوجوازبناکربناکرپاکستان پر اسرائیلی ڈرون سےحملےکیےگئے،رات کی تاریکی میں ۔
پھر پاکستان نےمعرکہ حق بنیان مرصوص میں بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ایٹمی تنصیبات اور فوجی اڈوں پر جوابی وار کیے گئے اور ان کے چار رافیل طیارے تباہ کردئیے گئے ۔پاکستان نے بھارت کو ایسی دھول چٹائی کے بھارت زندگی بھر یاد رکھے گا ۔ حملے کے بعد بھارت بھاگتا ہوا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس گیا جنگ بندی کے لیے اس کی منت کی ۔
بھارت نے پاکستان کے دریاؤں کا پانی بند کردیا اور سندھ طاس کا معاہدہ خود سے منسوخ کیا مگر معاہدے کے مطابق بھارت خود سے ایسا نہیں سکتا تھا ،بعد ازاں اس نے خود ہی دریاؤں کا پانی چھوڑ دیا ۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی شر پسند ہیں ۔وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کشمیر کے مسئلے پر بھی بات کی اور ثالثی کی بھی پیش کی جو 1948کے مطابق اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ریفرنڈم سے حل ہوگا ۔
کشمیریوں نے ہمیشہ سے ہی پاکستان کی حمایت کی ہے اور ان کی پاکستان سے الحاق کی خواہش رہی ہے،کشمیری"کشمیر بن کےرہےگا پاکستان " کا نعرہ بھی لگاتے ہیں ۔حریت رہنما اور برہان ظفر نے سوشل میڈیا کے ذریعے تحریک کو اجاگر کیا مگر اسے بھی شہید کردیا اور عوام چھروں سے چھلنی تو ہیں مگر غلامی کے زخم بھی بہت گہرے ہیں ۔آزادی بہت بڑی نعمت ہے ،ہمیں کشمیریوں سے محبت کرنی چاہیے ،کشمیر کی آزادی ،عظمت و محبت خوشحالی ترقی و سلامتی کے لیے دعا کرنی چاہیے،اللہ کشمیریوں کو فتح اور آزادی عطا کرے ۔آمین




































