
صائمہ معید / بہاول پور
قرآن انسٹی ٹیوٹ کےثمرکیمپ کی اختتامی تقریب قرآن انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہوئی ۔ہال کو طالبات نے تقریب کےلیے بڑی محنت سےسجایا تھا۔تقریب کا باقاعدہ آغاز سابقہ طالبہ قرآن
انسٹی ٹیوٹ فوزیہ اسحاق کی پرسوز تلاوت سےہوا۔خوب صورت نعت مہمان خصوصی نجمہ حبیب نے پڑھی ۔نجمہ حبیب الخدمت کی بہترین ڈونر ہیں اور مدرسہ نور کےبیداری پروگرام کی نگران بھی ہیں، انہوں نےاپنی پوری زندگی اقامت دین کےلیےوقف کردی ہے۔
مہمان خصوصی ناظمہ ضلع طاہرہ یونس نےتذکیری گفتگو کرتے ہوئےعلم کی اہمیت پر جامع اور تفصیلی روشنی ڈالتےہوئےکہاکہ اپنےبچوں کودنیا کی دوڑ میں آگےکرنےسے پہلے ان کے دلوں میں اللہ کا خوف،نبی کی محبت اورآخرت کی فکر ڈال دیں ورنہ یہ دنیا کی محبت اور ترقی ان کے دین کو نگل جائے گی۔علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا۔۔۔۔
کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
اس کے بعد شعبہ اطفال کے ثمر کیمپ کے بچوں نے فلسطین سے اظہار یک جہتی کی لئے (القدس لنا لبیک) ترانے پرجوش ٹیبلو پیش کیا جس نے فلسطینیوں کا درد محسوس کروایا۔اس کے بعد ثمر کیمپ کی طالبات سے تاثرات لیے گئے، جنہوں نے ثمر کیمپ کو سراہا اور اس طرح کے کورسز کا سلسلہ وقتافوقتاً جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔
قرآن انسٹی ٹیوٹ کی ٹیچرصائمہ معید کی جاندارکمپیئرنگ نےتقریب کی خوب صورتی کو آخرتک قائم رکھا،جب اس خوب صورت شعر کی صورت میں انہوں نے قرآن انسٹی ٹیوٹ کی پرنسپل کا تعارف دیا تو سامعین نے بڑے جوش کا مظاہرہ کیا۔
حوصلے پست تھے فاصلے دیکھ کے
فاصلہ گھٹ گیا حوصلہ دیکھ کے
پرنسپل سعدیہ بخاری نے اپنے خطاب میں قرآن انسٹی ٹیوٹ کا تعارف دیا اور انہوں نےجامع انداز میں قرآن کی تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "قرآن ہدایت ،رحمت اور نور کا سر چشمہ ہے جو انسان کو حق و باطل میں فرق سکھاتا ہے اور آج کے اس دور فتن میں دنیاوآخرت میں فلاح اس کی تعلیمات کو ساتھ لے کہ چلنے میں ہی ہے"قرآن انسٹی ٹیوٹ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ اس کی ایک طالبہ شازیہ نذیر نے قرآن مجید حفظ کیا۔حفظ قرآن ایک بہت بڑی فضیلت ہے اور یہ فضیلت ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی ،اسی کے حصے میں آتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نواز دے۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایاکہ:"قیامت کےدن صاحب قرآن یعنی حافظ سےکہاجائےگا ،قرآن پڑھتاجا اوربلندی کی طرف چڑھتا جا اور ویسے ہی ترسیل کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسےکہ دنیا میں تو پڑھتاتھا۔بس تیری منزل وہی ہوگی جہاں تیری آخری آیت کی تلاوت ختم ہوگی"۔طالبہ حافظہ شازیہ نذیر کی حفظ قرآن کے اعزاز میں چادر کشائی مہمان خصوصی ناظمہ ضلع طاہرہ یونس نے کی۔ کچھ خصوصی مہمانوں کو بھی دعوت دی گئی تھی۔
بیضہ خان اور شمائم فاطمہ ان میں شامل تھیں ،انہوں نےقرآن انسٹی ٹیوٹ کی ترقی کوسراہا کہ اس پر بہت محنت کی گئی ہےاوراس طرح کےادارے ہونےچاہئیں جن میں بچوں کی دین و دنیا کی تربیت ہو اور آج کے فتنے کے دور میں ان کی بے حد ضرورت ہے۔ ان دونوں نے مل کے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کمپنی "آئیکونک"کے نام سے بنائی ،اس میں ان کا 5 سال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے اسلام کی حدود میں رہتے ہوئے کامیابی کی منازل طے کیں۔
طالبات میں اسناد اور تحائف مہمانوں نے تقسیم کیے۔پرنسپل قرآن انسٹی ٹیوٹ سعدیہ بخاری کی پرخلوص اورجامع دعا سے تقریب کا اختتام ہوا۔مہمانوں کی تواضع جوس سےکی گئی ۔اس طرح یہ باوقار تقریب بہترین انداز میں اپنے اختتام کو پہنچی۔




































