
ریطہ فرحت
کیلگری کے ساؤتھ میں ایک علاقےکی بڑی سڑک پرسک گھر کمرشل تھا، وہ یوں تو کینیڈا کے ساتھ مانوس ہوچکی تھی ،البتہ دل میں اپنےدیس کی ہڑک اٹھتی تو دل بےقابوسا ہوجاتا۔یہ سمجھوتا اس نے اپنے
گرتے مالی حالات کی وجہ سےکیاتھا۔پیسے جوڑ جوڑ کراکٹھے کرکے اسکالر شپ پر آئی تو پہلے پہل ملک زیادہ اجنبی لگ رہا تھا ۔یہاں کا ہر مکین غیر۔۔۔ گھرسےلےکرسب شاپنگ ایریاز ۔۔۔۔اور تو اور۔۔۔ کھانا بھی غیرلگنے لگا جبکہ اس کی دوست کی فیملی نے اسے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ پاکستانی کھانے سے اس کی خاطر کریں مگر وہ جتنی ایکسائٹمنٹ لے کر آئی تھی وہ سب جھاگ کی طرح بیٹھ گئی ۔
تنہائی نے تواس کےکھلتے گلاب چہرے پر ڈیرے ہی ڈال لیے تھے۔وہ اپنی تعلیم کےساتھ پارٹ ٹائم جاب کرتی، رات میں بھی آن لائن کلاس دیتی ۔پیسے کمانا خود کو پالنا بھلا آسان تھا ؟ ۔
وہ تو خیر ہو ابا جی کی کہ جنہوں نے اس کے کینیڈا آنےاوراپنے آپ کو سیٹل کرنےکےلیےتعاون کیا تھا،ورنہ تو چچی تائی سےلے کرخالہ ماموں سب نے ہی اعتراض اوراختلاف کی دکان کھول لی تھی۔پھر حسنین ماموں کو تو ویسے بھی اپنے بیٹے کے لیے رشتہ اسی کا چاییے تھا مگر وہ صاف ابا جی سے کمٹمنٹ کرچکی تھی کہ جب تک وہ خود کو قابل نہ بنالے گی کسی بھی مورچے کے لیے۔۔۔۔۔وقت حالات کب ہمیں دھوکا دے جائیں پھر ایک بہن شادی ہوکر بھی طلاق یافتہ ہوچکی تھی ،یوں ان صدموں نےاسےمضبوط رہنےکاالٹی میٹم دے دیا تھا۔اس کی پھپھو کا گھر بھی کیلگری میں تھا یوں اباجی کو بھی دلی اطمینان تھا جب اس کا دل گھبراتا وہ پھپھو کے پاس چلی جاتی۔
ذہن کے در بھی تو کتنے تھے جو مستقبل کو بہت گہرائی سے سوچتے تھے۔اب جو آئی تو نہال کی کالیں روز اس کاناطقہ بند کیے رکھتیں، وہ لاکھ منع کرچکی تھی مگر وہ تھا کہ اس کے پیچھے ہی پڑگیا تھا۔ماموں کا بیٹا ہونے کا مطلب یہ تو نہ تھاپھر الزام بدگمانی کہ پردیس جاکر تم کسی میں انوالو ہوگئی ہو کوئی بوائے فرینڈ ہوگا۔ تمہارا یہ خود ساختہ الزامات وہ چپ کرکے سنتی اور فون رکھ دیتی۔ حبس محسوس ہوتا لمبے سانس لیتی۔۔۔کتنی ہی تلخی تھی جو کب سے گھول گھول کر پی چکی تھی۔
آج وہ کیفے ٹیریا سے کافی مگ لے کر لائبریری ڈییارٹمنٹ میں آگئی تھی۔چودہ اگست پراسےنہہی سمجھ آرہا تھا کیا کرے،سامنے اسےقائداعظم کی ایک بڑی سی انگریزی آرٹسٹ کی لکھی کتاب نظر آئی اس نے جھٹ اٹھائی اور پڑھنے لگی ۔اس کی آنکھوں سے پڑھتے پڑھتے نجانے کتنے آنسو لڑھک چکے تھے اور وہ کسی درد میں تڑپتے دل کے ساتھ لائبریری کے سامنے والے کیبن پر جاکر رکی تھی۔
بس پھر یہ سمسٹر ہوجائے اور کچھ سیونگ ۔۔۔۔مجھے اپنے وطن ہی جانا ہے ۔میں اپنےپیرپراس وطن کی مٹی پرکھڑاہونا چاہتی ہوں جو خود پیرپرکھڑاہونےکےلیےمیرامحتاج ہے۔میں اسے اپنے سہارے جیتے دیکھنا چاہتی ہوں ،میں اسی کی کونپل ہوں تو یہاں کیوں مہکوں یہاں کیوں اپنی پنکھڑیاں پھیلاؤں ۔۔۔
ایسا نہ ہو فقط پرچھائی ہی بنی رہ جاؤں ۔
اچانک اس کے فون سے یہ نغمہ نغمانے لگا
اس زمیں کا ہر ذرہ
رنگ و آب تم سے ہے
یہ فضا تمہاری ہے ۔۔۔۔۔
یہ وطن تمہارا ہے تم ہو ۔۔۔۔۔




































