
خورشید بیگم/ گوجرہ
پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔ لا الہ الا لله
ہمارے قائدین کی محنت و جانفشانی خصوصاً بابائےقوم حضرت قائد اعظم کی سیاسی بصیرت رنگ لائی۔ تائید ایزدی سےلاکھوں قربانیوں کےبعدپاکستان وجودمیں آگیا لیکن افسوس کہ تخلیقِ پاکستان کے
مقاصد آج تک پورے نہیں ہو سکے۔ اس سرزمین پاک کے لئے قربانیاں دینے والی نسل نظامِ مصطفے کے نفاذ کا خواب آنکھوں میں سجائے اس دنیا سے رخصت ہو گئی ۔ رفتہ رفتہ یومِ آزادی کا اصلی تصور ماند پڑ گیا۔ ہماری نئی نسل عمارتوں پر جھنڈیاں لگا کر اپنی سواریوں پر سبز ہلالی پر جم سجائے،باجے بجاتے ون ویلنگ کرتے ہوئے گلیوں محلوں میں گھومنے کو جشن آزادی منانا سمجھتی ہے ۔ دل خون کے آنسو روتا ہے کہ یہ قوم کس راہ پر چل نکلی ہے ۔ ہمیں تو اس ملک کو اقبال اور قائد کے خوابوں کا پاکستان بنانا تھا ۔ اسےترقی کی راہ پر گامزن کرنا تھا ۔ اسے قوموں کی صف میں ایک باوقار مقام عطا کرنا تھا ۔ جیسا کہ ہمارے عظیم قائد کا ارشاد ہے
" آئیے ہم اپنی عظیم قوم اورخود مختارمملکت کی تشکیل و تعمیر کے لئے کچھ تدبیر کریں ۔ اب ہر مسلمان مرد و زن کے لئےسنہری موقع ہےاوراس کی خوش قسمتی بھی کہ وہ اپنےحصے کا بھر پور اور مکمل کردار ادا کرے ۔ بڑی سےبڑی قربانی دے۔ پاکستانی قوم کو دنیا کی عظیم ترین قوم بنانے کے لئے مسلسل ان تھک اور شبانہ روز محنت کرے۔ " ( 20 اکتوبر 1947 ایک نشری بیان)
سبی بلوچستان کے شاہی دربار میں منعقدہ تقریب کے موقع پرفرمایا "میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اس اُسوہ حسنہ پر چلنے میں ہے جو ہمیں قانون عطا کرنے وار پیغمبرِ اسلام نے ہمارے لئے بنایا ہے۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنی جمہوریت کی بنیادیں صحیح معنوں میں اسلامی تصورات اور اصولوں پر رکھیں"۔ ( 14 فروری 1948) اسی روز بابائے قوم نے افسران حکومت سے مخاطب ہو کر فرمایا " ایمان داری اور خلوص دل سے کام کیجئے، کام اور زیادہ کام ۔ آپ کے ضمیر سے بڑی کوئی قوت روئے زمین پر نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جب آپ خدا کے روبرو ہوں تو پورے اعتماد سے کہہ سکیں کہ میں نے اپنا فرض انتہائی ایمان داری ، وفاداری اور صمیم قلبی سے سر انجام دیا۔" ( سبی 14 فروری 1948).
آپ نے پاکستانی قوم کو تبھی متنبہ کردیا تھا کہ"ہماراکوئی دوست نہیں ہے۔ ہمیں نہ انگریز پر بھروسہ ہےنہ ہندوبنیےپر۔ہم دونوں کےخلاف جنگ کریں گے خواہ وہ دونوں آپس میں متحد ہو جائیں"۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قائد اعظم کے ارشادات کی روشنی میں اپنا قومی نصب العین طے کریں ,اپنی نوجوان نسل کومقاصدِ پاکستان اور نظریہ پا کستان سے آگاہ کریں ۔ من حیث القوم یہ عہد کریں کہ ہم جس خدا کی عبادت مسجد کی چار دیواری میں کرتے ہیں اُس خدا کی اطاعت زندگی کے ہر شعبہ میں اپنا شعار بنائیں گے،جس قرآن کی تلاوت کو ہم حصول ثواب کا ذریعہ سمجھتے ہیں اس قرآن کو بطور قانون اپنے ملک میں رائج کریں گے ، جس نبی کا کلمہ پڑھتے ہیں اُس کی تعلیمات کی روشنی میں ملکی و ملی مسائل حل کریں گے،جن خلفائے راشدین کی عقیدت ہمارا جزوِ ایمان ہے ان کے نظامً خلافت کو اپنائیں گے ۔ اگر پاکستانی قوم کو ایسا مخلص رہنما مل جائے جو اسے یہ بھولا ہوا سبق یا دلا دے کہ اس کی ترقی و بقا کار ازنظامِ اسلام کے نفاذ میں مضمر ہے تو امیدِ قوی ہے کہ ہمارے نوجوانوں کا یومِ آزادی منانے کا انداز محض تفریح طبع اور ہو ہو ، ہا ہا نہ ہو بلکہ جذباتِ تشکر کا اظہار ہو ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جس قوم کا نوجوان طبقہ راہ راست پر گامزن ہو جائے اُسے ترقی کی شاہراہ پر سوار ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ میری یہ دعا ہے ۔
خدا کرے کہ وطن پہ غلط وقت نہ آئے
خدا کرے کہ یہ پرچم ہمیشہ لہرائے
خدا کرے کہ سلامت رہے زمیں میری
عدو کی نظرِ بد سے بچی رہے زمیں میری




































