
فرزانہ خورشید
آزادی کا مزاہ ان پرخلوص لوگوں نے چکھا جنہوں نے جان ومال لٹا کراس مملکت خداداد پاکستان میں قدم رکھا ۔اپنےخاندان والوں کوکٹتےاورمرتےدیکھا ۔ بڑی بڑی حویلیوں میں رہنے والے دکھ سے بھرے
لٹے ہوئے پاکستان آئے ،پر زباں پر یہی نعرے تھے ،لے کے رہیں گے پاکستان۔۔۔ بٹ کے رہے گا ہندوستان۔
نظریہ بامقصد
اسلامی جمہوریہ پاکستان
پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ
اس کسمپرسی میں دل شیشے کی مانند جگمگاتے، ہم ایسے نظریاتی ملک میں سانس لےرہےہیں جہاں مسلمانوں کو اب کوئی پابندی نہیں
یہ مخلص ترین لوگ تھے۔
اب آزادی کا معلوم کرنا ہے تو پوچھئے ان گھرانوں سے جن کے خاندان کے سرپرست مہنگائی غربت بے روزگاری اور بجلی کے بل ادا کرنے پے خودکشی کرتے ہیں؟ آزادی کا مقصد حاصل کرنے میں ہم بہت پیچھے ہیں ۔ملک کی باگ ڈور ایسے بد مست ہاتھی نما انسانوں کے ہاتھ میں ہے جن کا بیٹ نہیں بھرتا،ہر محکمہ ناسور بن چکا ہے،کہاں سے آئے گی خوشبو ئے چمن۔نوجوان طبقے کو کھیل ونشے میں لگا دیا گیا ہے۔
ہمارا سرمایہ ،ہمارا کل، ہمارے جوان بےراہ روی کا شکار ہیں کیونکہ پڑھ لکھ کر بھی روزگار نہیں ہے ، نا امیدی سب طرف ہے
آزادی کہاں ہے۔۔۔۔
صحت ،تعلیم ،امن امان کا فقدان
عدالت میں انصاف سائل سے کوسوں دور
کس کے ہاتھوں اپنا لہو تلاش کروں ۔کہاں سے لاؤں حقیقی آزادی ۔ کہاں سے لاؤں حقیقی آزادی؟




































