
ساجدہ حسین
آؤ کے تجدید عہد کریں اس بات کی کہ کلمے کے نام پر لیا گیا وطن ہم سے کیا تقاضا کر رہا ہے۔
کیا ہم نے وہ عہد پورا کیا ہے؟آج ہم عہد کریں کہ ہم میں سے ہر کوئی اس وطن کو قائم و دائم رکھنے کے لیے وہ عہد پورا کرے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں قران میں سکھایا ہے۔اس وطن کے ساتھ مخلص رہنے کے لیے ہمیں اپنا اخلاق و کردار سوارنے کی کوشش کرنا ہوگی۔پیار محبت،عفو و درگزر کرنا ہوگا۔اللہ کے خوف کے بغیر ہم اپنا اخلاق و کردار کبھی سوار نہیں سکتےجو ملک اتنی قربانیوں سے لیا گیا ہو ،کیا ہم اسے یوں ہی اپنی غلط کاریوں کی وجہ سے خراب کر دیں گے،خود کو سنوارنے کا ہر فرد ذمہ دار ہے۔
فرد سے معاشرہ بنتا ہے ،معاشرے سے قوم اور قوم سے ملک ، آج ہم یہ عہد کریں گےکہ ہمیں بحیثیت قوم اپنے ملک کےساتھ کیسی وفاداری نبھانی ہے۔سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لیے اپنا کردار نبھانا ہوگا۔رشوت ستانی،کرپشن،جھوٹ،بے راہ روی،چوری جیسی بیماریوں کو دور کرنے کے لیے مثبت قدم اٹھانا ہوگا۔ہر شخص اگر اپنے عہد کی پاسداری کرے تو یقینا ًہمارا ملک جنت نظیر بن جائے گا ،ان شاءاللہ۔
آزاد وطن میں ہم سسٹم سے ہٹ کر بات نہیں کر سکتے، یہ سسٹم بنانے والے لوگ جن کے ہم محکوم ہیں، حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں ملک کو سنواریں۔1400 سال پہلے ملک کو چلانے کے لیے قران کی صورت میں دستور دیا گیا تھا اور اسی دستور کے تحت ہمیں اس ملک کو سنوارنا چاہیے۔
جشن آزادی تو ہر سال زور و شور سے منایا جاتا ہے، کیا جشن آزادی صرف ایک دن تک محدود ہے؟کیا سال کے باقی دنوں میں وطن سے وفادار رہنا آزادی کے زمرے میں نہیں آتا،بلا شبہ آزادی کا جشن منانا زندہ قوموں کی پہچان ہوتی ہے مگر سال کے باقی دن اپنے ہی وطن کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔وطن کی آزادی کے لیے کیا ایک ہی دن میں جوش جذبہ دکھانا چاہیے۔ملی نغمے جھنڈیاں لگا کر کیا ہم وطن کی آزادی کا حق ادا کر سکتے ہیں۔نہیں نا! اس کے بعد وہی رشوت خوری ٹیکس ادا نہ کرنا، بلوں میں ڈنڈیاں مارنا ،ہر طرح کے ناجائز ہتھکنڈے اپنانا ۔محبت اور وفاداری کا ثبوت اس عہد کے ساتھ کر کے دیں کہ ہم آئندہ بھی اس وطن کے وفادار اور مخلص رہیں گے ۔یہ سوچ کر کہ اس وطن کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے بزرگوں نےلا تعداد قربانیاں دی ہیں۔لہٰذا" ہمیں یہ عہد نبھانا ہےاور اس ملک کو بچانا ہے"۔




































