
عائشہ بی
انبیاء کی سر زمین زندگی سےبھرپور ہوتی تھی پرآج آنسوؤں کا منظر پیش کررہی ہے۔ گھروں کو کھنڈرات اورملبے میں بدل دیا گیا ہے.جہاں بازاروں میں خوشبوئیں بکھرتی تھیں، وہاں آج دھواں اور
خاک اٹھتا ہے لیکن اس جنگ کے شور میں ایک خاموش چیخ گونج رہی ہے۔"بھوک اور پیاس سے موت"۔
مہینوں سے اسرائیلی محاصرہ جاری ہے،بموں اور گولیوں سے انسانوں کی جانیں لے رہا ہے بلکہ خوراک اور پانی کی کمی سے بھی موت ہی موت۔۔ روز مرہ کی بنیادی ضروریات جیسے روٹی، صاف پانی بھی بند کر دیا گیا ہے، ماؤں کے سامنے بچے دودھ کے لیے تڑپ رہے ہیں ۔رو رو کر آنسوؤں کا دریا بن چکا ہے، بچے فاقہ کشی سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکے ہیں ۔
پانی زندگی ہے، پر پانی کی کمی نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا گیا ہے،گرد آلودپانی سے بیماریوں نے جنم لے رکھا ہے۔بچوں میں وبائی امراض پھیل رہے ہیں ۔ہسپتالوں کو تباہ کر دیا گیا ہے اور جو اسپتال ہیں وہ زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں ۔ نہ دوا ہے نہ خوراک، ہر طرف موت ہی موت ہے۔ مسلمانوں پر ہی ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے رہے جا رہے ہیں اور امت مسلمہ کو بچانے والامسلمان سو رہا ہے۔
عالمی ضمیر کب جاگے گے.....؟
سوشل میڈیا پر سب کچھ دنیا کونظر آتا ہےمگرعالمی قوتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔اب بھی وقت ہےکہ مظلوم اور معصوم کے لیےآوازبلند کریں ،کم سے کم امداد پہنچانےاورمحاصرہ توڑنے کی کوشش ضرور کریں ۔ہر ممکن پلیٹ فارم پر ظالمانہ ظلم کو بےنقاب کریں۔
ظالم ظلم کرنےمیں کتنا بھی تیز ہوپرامید کی کرن کبھی بھی نہیں ختم ہوتی ۔ یکجتی اورامیدکیلئےغزہ کے لوگوں کا مثال موجود ہے۔۔۔! وہ اللہ کا سہارا لے کر زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔۔۔۔ان شاءاللہ.! اوہ یک دوسرے کا سہارا ہیں ۔ روٹی کا ایک ٹکڑا بھی بانٹ کر کھا رہے ہیں۔۔۔سبحان اللہ.....! زخمیوں کو اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ لاشیں اٹھا اٹھا کر خود قبر میں دفنا رہے ہیں۔ یہ ہے وہ انسانیت کا اصلی چہرہ۔۔۔! اللہ کے بھروسے اور عالم انسانیت کے آٹھ کھڑے ہونے سے اس دور ظلمت کو شکست دیا جا سکتا ہے۔ ان شاءاللہ ایک دن آزادی ضرور نصیب ہوگی۔۔ ہم سب کی دعاؤں کو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین




































