
خورشید بیگم / گوجرہ
ذرہ ذرہ تیری خاکِ پاک کا رشکِ قمر
گوشہ گوشہ ہے ترا خورشید سے تابندہ تر
تجھ سے ہے میری نمو اور مجھ سے ہے تیرا وجود
تو مرا تعمیر گر ہے ، میں ترا تعمیر گر
آج اگرحال کے جھروکوں سے اس ماضی کے اندر جھانک کر دیکھیں جو اٹھہتر سال کے فاصلے پر ہےتواسلامیانِ ہند کی وطنِ پاک کی طرف ہجرت کا بھیانک منظر نگاہوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دے گا ۔ مہاجرین کے قافلے لٹے پٹے، تھکے ماندے پا پیادہ اور بیل گاڑیوں پر پاکستان کی سرحد کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ دہشت سے پھٹی آنکھیں ، پاؤں میں آبلے ، چادروں میں لپٹے جوان جسم جو ہر لمحہ موت وحیات کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ اپنے گھر بار لٹنے کا صدمہ بھی ہے اور مقدس سرزمین کو چومنے کا شوق بھی ۔ ہولے ہولے، تیز تیز ، گرتے پڑتے پاک سرزمین کی طرف رواں دواں ہیں۔ ایک امید ہے، ایک لگن ہے کہ آزاد وطن کی آزاد فضاؤں میں سانس لے سکیں گے۔ قرآن وسنت کے مطابق زندگی گزار سکیں گے ۔ انگریز اور ہندو کے سو سالہ دور غلامی سے نجات کا تصور بہت حسین تھا ، جس نے ان کے حوصلوں کو عزم و ہمت عطا کئے رکھی۔
بلا شبہ 16 اگست 1947 ء کو دنیا کے نقشے پر نمودار ہونے والی سب سےبڑی اسلامی مملکت دنیائے اسلام کے لئے ایک مجزہ تھی جو 27 رمضان مبارک کو ظہور پذیر ہوا ۔ کیونکہ اس کی بنیاد کلمۂ توحید پہ رکھی گئی ، یہی نعرہ تحریک پاکستان کی جان ٹھہرا -
لے کے رہیں گے پاکستان




































