
عائشہ بی
بونیر میں سیلاب کی تباہی اپنے عروج پر ہے۔ پہاڑ، ندی نالے سب کچھ بےقابو ہو کربستیوں میں داخل ہو گئے ہیں اورہزاروں مکانات ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں ۔ مویشی بھی پانی
کی نظر ہو گئے ۔ کھڑی فضلیں اور تمام باغات کو پانی بہا کر لےگیا ہے ۔ بہت سارے انسان اللہ تعالی ٰکو پیارےہوگئےہیں ۔ سینکڑوں خاندان بے گھر ہو گئے ۔بہت سےخاندان لاپتا ہیں ۔ سیکڑوں لوگ بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔
امدادی کارروائیاں جاری ہیں ۔ راستے بند اور وسائل محدود ہو چکے ہیں۔متاثرین بھوک پیاس اور بیماریوں کی وجہ سے خطرے میں ہیں ۔ الخدمت کے رضاکار زندگی کو داؤ پر لگا کر امدادی کاروائیاں اور لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے ہر ممکن کوششوں میں لگے ہوئےہیں، کشتیوں اور کندھوں میں سامان لاد کر متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جا رہا ہے ۔ پانی کے ریلے سے لوگوں کو بچاتے ہوئے ایک شخص شدید ہوگیا تھا۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے وہاں متاثرہ علاقے میں جا کرعیادت کی ، صبر کی تلقین کی اور مغفرت کی دعائیں کیں ۔جماعت اسلامی پاکستان کے بہت سارے لوگ اس موقع پر موجود تھے۔اب بھی جماعت اسلامی کے کافی افراد وہاں پر پہنچ رہےہیں اور لوگوں کی مدد کر رہے ہیں ،الحمدللہ لیکن افسوس اس بات کی ہے کہ حکومت اور دیگر پارٹیوں کا وہاں پر کوئی وجود نظر نہیں آرہا ۔یہ سعادت صرف الخدمت اور جماعت اسلامی پاکستانکو حاصل ہے ۔۔۔ اللہ تعالیٰ جماعت اسلامی کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔
یاالہیٰ .....! مسلمانوں پر رحم فرما اور ناگہانی آفات سے بچا! ہم سب کو بڑھ چڑھ کر متاثرین کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔




































