
حبیبہ اسماعیل
یہ ملک پاکستان جس کانام ہی ٹھنڈک اور سکون کا احساس دلاتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا قلعہ محفوظ ہے جس میں رہ کر ہر طرف کے خطرات اور دشمن پاکستان کسی کے
قریب بھی نہیں آسکتے اور یہ ہی سوچ تھی ان بے لوث اور مرد مجاہد مسلمان عظیم قائد قائد اعظم ،علامہ اقبال اور ان کے جیسے تمام ساتھیوں کی جنہوں نے دن رات انتھک کوششوں سے ان سخت ترین مصائباورمشکل ترین مراحل کو صرف اس لیے برداشت کیا کہ ایک دن وہ اپنا الگ ملک حاصل کریں گے جس میں مسلمان اپنی سالمیت، حرمت، عزیمت، کو برقرار رکھ سکیں اور دین اسلام کے وہ احکام جو ہندوؤں کے ساتھ رہ کر پورے کرنا مشکل بن چکے تھے۔۔وہی ہندوستان جہاں کبھی ہندو مسلم ایک جگہ رہتےبستےاور ملنا جلنا غم و خوشی میں ایک دوسرے کے مددگار اورغم گسار بنے رہتے تھے ۔۔ اور کسی دوسرے کے مذہب میں کسی طرح دخل اندازی نہیں کرتے بلکہ ہندو مسلم ایک دوسرے کے رسم رواجوں ، مقدس تہواروں کا بہت احترام کرتے اوربخوشی ان میں شرکت بھی کرتے ۔ ایک دوسرے کی عبادت گاہوں کا احترام بھی کرتے تھے ۔ اس کے علاؤہ و ہندو جو مسلمانوں کے علم و عمل سے اور ا ن کی فصاحت و بلاغت سے بڑے مرعوب رھتے اور علماۓ دین کی دل سے عزت و تکریم کرتے نظر آتے۔۔
اور اس طرح پورے ہندوستان میں مغلیہ دور کے بادشاہوں کےساتھ مسلمانوں کے دینی علمی ،تعمیری،علم فنون، تجارتی ،صنعتی دستکاری ، وغیرہ غرض زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کی ساری دنیا میں دھوم تھی لیکن افسوس سدا سے مسلمانوں کی کامیابی ترقی اور علمی ذہا نت اور خاص دین اسلام سے سچی محبت کی وجہ سے ایمانی قوت سے خائف رہتے اور انہیں کسی طرح منتشر کرنے والے غیر مسلم ہر کوشش کرنے کے باوجود منہ کی کھاتے لیکن کبھی اپنی ناپاک سازشوں سے باز نہیں آۓ اور یہ ہی انگریز وں نے ہندوستان میں تجارت کے بہانے اپنے قدم جمانے کے بعد مسلمان اور ہندوؤں میں پھوٹ ڈلوا کر مسلمانوں کا ہر طرح سے ہر مقام اورہر مرحلے پر بری طرح سے استحصال کرنا شروع کر دیا انہیں سب سے کمتر اور کمزور قوم بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا ۔۔ اور یہ ہی مقام تھا جب قائد اعظم جیسے جہاں دیدہ شخص نے الگ ملک حاصل کرنے کے لیےجدو جہد شروع کردی جو ان دشمن عناصر لوگوں کو ہرگز گوارہ نہ تھا کہ مسلمان الگ ملک میں رہ کر ایک مضبوط اور نمایاں قوم بن سکیں اور یوں ہمیشہ کی طرح غیر مسلموں کے ساتھ وہ بدنصیب اور غدار مسلمان بھی علامہ اقبال کے پاکستان بننے کے خواب اور اسے پورا کرنے والے لیڈر کے دشمن بن گئے اور پاکستان جانے والوں کی راہیں مشکل بنادیں لیکن اللہ پر توکل کرکے جہدوجہد کرنے والوں نے اپنے گھر بار عزیز رشتہ داروں ،مال دولت کھیت کھلیان اور سب سے بڑی جانوں کی قربانی دے کر پاکستان حاصل کر لیالیکن وہاں تو ملک کی جڑوں میں پہلے ہی سے غدار بیٹھے ہوئے تھےجو کسی بھی مخلص انسان کی ملکی بھلائی اور ترقی و کامیابی اور دینی احکام کی ترویج کو ناکام کرنے میں مصروف عمل رہےاور سال بھر میں ہی پاکستان کے عظیم قائد کو بھی گھناونی سازشوں سے موت کے دہانے تک پہنچا دیا اوراسی طرح تمام مخلص پاکستانی قائدین کو ایک ایک کر کے سازشوں سے اپنی راہ سے ہٹانے میں لگے رہے جس کے نتیجے میں وہ تمام خواب اور خواہشیں جو ملک پاکستان کے حوالے سے الگ رہ کر پوری ہونی تھیں وہ آج غدار حکمرانوں اور ان کے جیسے لوگوں کی وجہ سے پایہء تکمیل تک نہیں پہنچ سکیں اور پاکستان صرف اللہ کی رحمت و مہربانی اور اب بھی مخلص لوگوں کی مسلسل جدو جہد اور دعاؤں کی بدولت کمزور ہی سہی لیکن روشنی کا مینار بنا ہوا ہے۔ اللہ اس ملک کی ہمیشہ حفاظت فرمائے آمین۔۔ یہ ہر سچے پاکستانی کی دعا ہے ۔




































