
عریشہ اقبال
الحمدللہ۔۔۔کہنا بھی تو عافت کے ٹل جانے کا پتہ دیتی ہے۔
پھر لوگ کیوں سوال کرتے ہیں کہ تم اداس ہو
اپنی اداسی کی وجہ بتادو
ہمیں اپنا سمجھتی ہو تو ثبوت دو
زندگی کے ایک خاص موڑ پر انسان کویہ بات سمجھ آتی ہے کہ اس طرح کےسوالات کا بہترین جواب محض خاموشی ہوتی ہےکیونکہ خاموشیوں کے راز صرف رب کوبتائے جاتے ہیں پھر کہیں جاکر اللہ تعالیٰ اس خاموشی کے اندر پنپنے والےسکون کی ان کہی باتیں اور بہت سی نا مکمل کہانیوں کو مکمل کرتا ہے۔
یہ راز و نیاز کی کیفیت اور اس عالم کیف کی دنیا کا مسافر ہر کوئی نہیں بن سکتا کیونکہ دل سے زبان تک کا سفر عمل کی راہ ہموار کرتا ہے پھر کہیں جاکر زبان پر دل کی گہرائی سے جاری ہونے والا ہر کلمہ عبادت کا مقام حاصل کرتا ہے میں سوچتی ہوں عبادت کا صحیح تصور اس کی قبولیت کا عکس ہے جو عکس رحمت سے توفیق تک کے راستے میں نظر آتا ہے ۔میں سمجھتی ہوں توفیق سے رحمت کا رشتہ بہت گہرا اور انمول ہے ،اگر اس رشتےکوسمجھ لیا جاۓ تو قرب الہیٰ سے قبولیت ہماری واحد خواہش رہ جاتی ہے اور یہی تمنا ہماری زندگی کا حاصل بن جاتی ہے
کہ کسی طرح رب مجھے قبول کر لے اگر وہ قبول کرلے گاتومیں دونوں جہانوں کا حاصل اورسکون قلب پالوگی پھر چاہے آنسوؤں کا ایک ریلہ ہو یا ہزار، امتحان بہت کٹھن ہو اور راہ دشوار منزل سے عشق کا راز ایسی تاثیر رکھتا ہے کہ کوئ غم بڑا نہیں لگتا سوائے غم آخرت کے یہی وجہ ہےکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فانی قریب کا وعدہ کیا ہے اور اس سے بہتر وفا کرنے والا کوئی ہو ہی نہیں سکتا ،اللہ تعالیٰ ہم سب کو قبول کر لے ۔آمین یا رب العالمین




































