
بنتِ افضل/ گوجرہ
اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزاد پیدا کیا اور آزادی کےساتھ جینے کاسبق دیا ہے ۔ شرک سےبچنےکاحکم دیاکیونکہ غلامی میں نہ حقوق باقی رہتےہیں اورنہ ہی
تحفظ۔ حقوق اور حفاظت ہمیشہ آزاد لوگوں کے حصے میں آتے ہیں اور اس کی ضمانت صرف ہمارا رب دیتا ہے،وہ رب جس نے ہمیں پیدا کیا۔
لیکن افسوس! ہمیں اپنےہی حقوق اورفرائض کا شعور نہیں، شعور بیدار کرنے کےبجائے ہم نے مغرب کو اپناسہارا بنا لیا۔ عورت کی حفاظت کرنے کے بجائے ہم نے اپنی ماں، بہن اور بیٹی کو مغربی تہذیب کے حوالے کر دیا۔روزانہ کوئی نہ کوئی دل دہلا دینے والی خبر سامنے آتی ہے: کبھی غیرت کے نام پر قتل، کبھی عزت پر داغ کے خوف سے زندہ دفنائی جانے والی معصوم کلی۔ کبھی زینب کےکیس کی لرزہ خیز خبر، کبھی سیدرا بی بی کا اندوہناک قتل، اور کبھی بنو بی بی اور احسن اللہ کو قبائلی جھگڑوں میں قربان کر دیا جاتا ہے ،جن کے آخری الفاظ تھے: "ہم نے نکاح کیا ہے، زنا نہیں۔"
ہمارے تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں رہے۔ ہوس کےمارےدرندے بکری کی کھال اوڑھ کرمعصوم بچیوں کی عزت تارتارکردیتےہیں اورپھرلاہورکےپی جی سی جیسے واقعات سامنے آتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسےاوزگےان اصلان (ترکی) کا قتل کیس ہماری آنکھوں کے سامنے دہرا دیا گیا ہو۔ کبھی ہم نے سوچا کہ عورت کو اسلام نے کیا مقام دیا تھا اور آج ہم نے اسے کس حال میں پہنچا دیا؟
نااہل حکمرانوں نے ترقی کے خواب چکناچور کرڈالے،ہماری غیرت تواُس وقت ہی دفن ہوگئی تھی،جب عورت کو ترقی کے نام پر اشتہار بنا دیا گیا اور اس کے حجاب کو رکاوٹ قرار دے دیا گیا، ہم بے حس ہو چکے ہیں۔
اسلام نےعورت کوجومقام دیا ہے،وہ بے مثال ہے۔ماں ہےتوجنت کا دروازہ، بہن ہےتوعزت کی نشانی، بیٹی ہے تو باعثِ رحمت، یہ اعزاز وہ ہیں جو صرف اسلام نے عطا کیے۔ جسے آج کی عورت قید سمجھتی ہے، وہ دراصل اس کی حفاظت کی ڈھال ہیں۔ اسلام عورت کو مرد کے شانہ بشانہ کام کرنے سے نہیں روکتا، روکتا ہے تو صرف اس بات سے کہ وہ مخلوط ماحول میں غیر محفوظ نہ ہو۔
عالمی تناظر میں
یہ ظلم صرف ہمارے ملک تک محدود نہیں۔ دنیا بھرمیں عورت ظلم کا شکار ہے،بھارت میں ایک خاتون ڈاکٹرکودس درندوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا—یہ واقعہ انسانیت کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی تھا۔ ترکی میں اوزگےان اصلان کا قتل ہو یا یورپ اور امریکہ میں خواتین پر بڑھتے جنسی جرائم—کہیں بھی عورت محفوظ نہیں۔
ا عافیہ صدیقی کا دردناک قصہ تو پوری امتِ مسلمہ کےضمیرکوجھنجھوڑنےکےلیےکافی ہے،ایک تعلیم یافتہ، باعزت پاکستانی بیٹی کو برسوں سے قیدِ تنہائی میں رکھا گیااور دنیا صرف تماشائی بنی رہی۔ یہ سب واقعات ایک ہی صدا بلند کرتے ہیں، عورت آج بھی غیر محفوظ ہے۔
عورت کا تحفظ صرف قانون یا اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ہمیں اپنی بیٹی، بہن اور ماں کو وہ عزت اور مقام دینا ہوگا جو اسلام نے عطا کیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم جاگ جائیں، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
اے اللہ! ہماری بیٹیوں کو محفوظ بنا، ہمارے گھروں کو سکون اورمحبت کا گہوارہ بنا، ہمارے معاشرے کو حیاء اور غیرت کی روشنی عطا فرما۔ آمین۔




































