
انیلا سعدیہ / گوجرہ
زندگانی ہے تیری مہتاب سے تابندہ تر
خوب تر ہے صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
تحفظ عورت کا بنیادی حق ہے کیونکہ عورت انسانیت کےوجود کاوہ حسین روپ ہےجس کےبغیر زندگی کا تصور نامکمل ہے۔ وہ ماں ہے جو نسلوں کی پرورش کرتی ہے، بیٹی ہے جو گھر
میں رحمت کہلاتی ہے، بہن ہے جو سکون اور خوشی کا ذریعہ ہے اور بیوی ہے جو شریکِ حیات بن کر زندگی کو کامل کرتی ہے۔
اسلام نے عورت کو اس کا تحفظ اس وقت دیا جب دنیا کے بڑے بڑے معاشرے اسےکمترسمجھتےتھے۔ قرآن پاک نے عورت کو عزت اوروقاربخشا اورواضح طور پر حکم دیا: "اور ان کے ساتھ بھلائی کے ساتھ زندگی بسر کرو" (النساء: 19)۔ یہ حکم عورت کے تحفظ اور حسنِ سلوک کی بنیاد ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے بھی فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے"۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کی عزت اور اس کا تحفظ ایمان اور اخلاق کا معیار ہے۔
قرآن نے عورت کی جان و مال کی حرمت کو بھی مرد کے برابرقراردیا۔ وراثت میں اس کاحصہ مقرر کیا تاکہ وہ معاشی طور پرمحفوظ رہے۔زمانہ جاہلیت میں جب بچیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا تو قرآن نے اس ظلم کو ہمیشہ کے لیےختم کردیااورعورت کی زندگی کے تحفظ کااعلان کیا۔ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: "عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، وہ تمہارے پاس اللہ کی امانت ہیں"۔ یہ وصیت عورت کی عزت و حرمت کا وہ اعلان ہےجو قیامت تک کے لیے مسلمانوں کے لیے رہنمائی ہے۔
عورت کو تحفظ دینا دراصل آنے والی نسلوں کو تحفظ دینا ہے۔ایک محفوظ عورت ہی باشعور،تعلیم یافتہ اور مضبوط نسل پروان چڑھا سکتی ہے، اگر عورت عدم تحفظ کا شکار ہو تو نہ وہ خود ترقی کر سکتی ہے اور نہ ہی معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔ آج ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عورت کا حقِ تحفظ کوئی احسان نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا دیا ہوا بنیادی حق ہے۔ اس حق کی ادائیگی سے ہی ہم ایک ایسا معاشرہ قائم کر سکتے ہیں جو انصاف، امن اور ترقی کی حقیقی تصویر بن سکےگویا کہ قرآن و سنت کی روشنی میں عورت کا تحفظ صرف ایک معاشرتی ضرورت نہیں بلکہ ایک ایمانی فریضہ ہے۔ محفوظ عورت ہی روشن معاشرے کی بنیاد ہے اور یہی کامیاب و خوشحال قوموں کا اصل راز ہے۔




































