
انیلا عمران / لاہور
روئے زمین پر بسنےوالی ہرتہذیب اپنی کوئی نہ کوئی شناخت اورعلامت رکھتی ہے۔قدیم یونانی نینوااوربابل کی تہذیبیں ہوں یا ہندو مت اوربدھ مذہب کی تہذیب
ہر تہذیب کی شناخت ان کے مخصوص رویہ، رسم ورواج اور ان کی ظاہری علامات اورلباس سےہوتی ہے۔
ہندو عورت کا لباس اس کےماتھےپرلگا نشان اورمانگ کا سیندوراس کےہندوعورت ہونےکی نشانی ہے۔سکھ مذہب کی پہچان سکھوں کی محصوص پگڑی ہے اور عیسائیت کی پہچان صلیب کا نشان ہے۔اسی طرح ہر قوم اور اس کے اندر بسنے والی علاقائی تہذیبوں کی بھی ایک پہچان ہوتی ہے۔ ایک مسلمان عورت کی پہچان اس کا حجاب ہےجواسے دوسری قوموں سے ممتاز کرتا ہے،ہرمذہب کا کوئی وصف ہوتا ہے اور اسلام کا وصف حیا ہے۔
حجاب اس حیا کی علامت ہےجوایک مسلمان عورت کی پہچان ہے، نائن الیون کےبعد جب اسلام اوراسلامی شعائرسےنفرت کی فضا پیدا کی گئی تو جولائی 2004 میں لندن کےمیئر لونگ اسٹون نےدنیابھرکےعلماء کی کانفرنس منعقد کی اور
علامہ یوسف القرضاوی کی قیادت میں چارستمبر کو یوم حجاب کےطورپرمنانےکااعلان ہواعالمی سطح پراس دن کومنانےسےحجاب کی اہمیت میں اضافہ ہوا اور مغرب میں بسنے والی مسلمان خواتین نے اس مذہبی شعارکو فخر سے استعمال کرنا شروع کیا۔
ان ہی خواتین میں ایک نام مروہ الشربینی کا بھی تھاجوایک مصری نژادجرمن خاتون تھی،مروہ اپنےتین سال کےبیٹےکےساتھ پارک میں جاتی تووہاں اکثراس کی ملاقات ایلیکس نامی ایک بائیس سالہ نسل پرست جرمن نوجوان سے ہوتی جو اس کےحجاب کی بنا پر اسےدہشت گرد اسلامسٹ کہتا۔
افسوس اس بات پر کہ وہ ممالک جہاں کوئی کسی کی پرائیویسی اور ذاتی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اورنہ کسی کےحلیےاورکاسٹیوم پراعتراض کیا جاتا ہے ،وہاں ایلیکس مسلسل اس کے حجاب پر تنقید کرتا رہتا آخر تنگ آ کر مروہ نےعدالت سے رجوع کیا کہ ایلیکس اس کے مذہبی شعار کی توہین کرتا ہے تو عدالت نے اس پر 750 یورو جرمانہ عائد کیا
سات جولائی 2007 کو نظر ثانی کی اپیل کےدوران ایلیکس نےمروہ کوجوحاملہ تھی کوچاقوکےوارکرکےاس کےخاونداوربیٹےکےسامنےموت کے گھاٹ اتار دیا ، مزاحمت پر اس کے خاوند کو بھی زخمی کیا گیا ۔
حیرت کی بات تویہ ہےکہ بھری عدالت میں ایک شخص چاقوکےوارکرکےایک خاتون کو پولیس کی موجودگی میں قتل کر دیتا ہےاورعدالت خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ عدالت میں ایک شخص کا چاقو لےکرآنا اورسرعام ایک خاتون کو قتل کرنا اس بات کا ثبوت تھا کہ سارے عمل میں ریاست اس کی سہولت کار تھی اور بھری عدالت میں ایک معصوم عورت کا اتنی بے دردی سے قتل اس بات کا ثبوت تھا کہ دہشت گرد وہ نہیں بلکہ ایلیکس تھا اس کی دہشت گردی کو پوری دنیا نے دیکھا اسلام کو دہشت گردی کےساتھ منسوب کرنے والوں کے منہ پر یہ ایک طمانچہ تھا کہ کمزور حاملہ عورت کو اتنے لوگوں اور پولیس کی موجودگی میں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
مارنے والےنےتوسمجھاتھا کہ شایداس طرح خوف کی وجہ سےمسلمان خواتین حجاب کرنا چھوڑ دیں گی مگراللہ کا نظام ہےکہ دنیا والے جو کہانی ختم کرتے ہیں، اللہ وہاں سے ایک نئی کہانی شروع کر دیتے ہیں اور جس کردار کو دنیا ختم کرتی ہے ،اللہ تعالیٰ اسے ایک نئے انداز میں ڈھال کر سامنے لے آتا ہے مروہ کو شہید الحجاب کا خطاب ملا اور اس شر کو اللہ نے خیر میں بدلا اور حجاب کا استعمال پہلے سے بڑھ گیا اور مروہ کی اس شہادت کے بدلے بے شمار مروہ پیدا ہوئیں بے شک شہید کی جو موت ہے وہی قوم کی حیات ہے۔




































