
فرح ناز / فیصل آباد
کاش کہ مجھے کچھ وقت کیلئےقید کرلیاجائےکہ دُنیا کی کوئی خبر مجھے نہ ملے
کاش کہ اہلِ عرب کی طرح میرا ضمیر بھی مر جائے
کاش کہ میرے سینے میں دِل ہی نہ ہو یاوَہن کا شکارمُردہ دل میں کوئی تڑپ ہی نہ ہو
کاش کہ مجھ سے مواصلاتی آلات چِھین لئےجائیں کہ میں مکمل بے خبر رہوں
کاش کہ میرا کوئی وجود ہی نہ ہوتا
کاش کہ میری آنکھیں ہی نہ ہوتیں جو یہ دیکھ رہی ہیں
کاش کہ میرے کان ہی نہ ہوتے جو یہ سُن رہے ہیں
یہ چیخ و پکار زخمی دل لئے اہلِ غزہ مسلسل دے رہے ہیں
مگر افسوس کہ وہ واقف بھی ہیں کہ بہت پکارنے پر بھی مُردہ بیدار نہیں ہوتا۔




































