
ثروت اقبال
مجھے یاد ہے۔۔۔وہ پہلا دن جب آپ نے میرے خالی ہاتھوں میں قلم رکھا اور کہا
"یہ تمہاری تلوار ہے
اس سے جہالت کو مات دینا!"
آپ بولتے رہےاورمیرےاندرایک دنیا جاگتی گئی۔کبھی لفظوں میں چھپی روشنی دی اورکبھی خاموشی میں چھپے سبق۔ کبھی سرزنش کی چھاؤں میں دعاؤں کا سایہ بھی رکھا اور کبھی میری غلطیوں میں اپنا صبر گوندھ دیا۔آپ حوصلہ دیتے رہے، کیا کبھی کسی نے سوچا؟ کہ ایک استادصرف علم نہیں دیتا
وہ اپنا وقت دیتا ہے
اپنی نیند۔۔۔ اپنی فکر
اپنے خواب قربان کر دیتا ہے۔ صرف ایک شاگرد کے مستقبل کے لیے۔ جب ایک استاد شاگرد کے کندھےپرہاتھ رکھ کر کہتا ہے،
"بیٹا! تم ناکام نہیں ہو بلکہ ابھی مکمل نہیں ہوئے ہو!"
یہ ایک جملہ زندگی کا موڑ بن جاتا ہے۔آج جب زمانہ داد دیتا ہے تو مجھے پہلا سلام آپ کا یاد آتا ہے۔
اے استاد
میری ہرکامیابی میں
آپ کا عکس ہے میری ہر دُعا میں آپ کا نام
یہ محض ایک دن نہیں
یہ تو وہ موسم ہے
جہاں شاگرد کی آنکھ
تشکرسےبھر جاتی ہے،
اور دل سے صرف ایک صدا نکلتی ہے
سلام! اے چراغِ راہ!
سلام! اے اُمید کے باغباں۔
---




































