
صدف سرور
مبین ایک ذہین،سمجھداراورحساس دل رکھنے والی لڑکی تھی۔وہ ایک متوسط گھرانےسےتعلق رکھتی تھی لیکن اپنی قابلیت اورمحنت کےبل بوتے
پر شہر کے ایک معروف سکول میں زیرتعلیم تھی۔مبین کےوالداس کے بچپن میں ہی وفات پا چکے تھے۔اس کی والدہ ایک نیک سیرت اور خوددار خاتون تھیں جو محنت مزدوری کر کے اپنےبچوں کی تعلیم کا خرچ اٹھاتی تھیں۔
مبین کو اللہ کےدین سےمحبت تھی۔وہ فارغ وقت میں اسلامی لٹریچر پڑھتی اوراس پرعمل کرنےکی کوشش کرتی۔اس کی خواہش تھی کہ وہ میٹرک مکمل کرنے کے بعد عالمہ بنے،اور دین کی خدمت کرے۔خوشی کی بات یہ تھی کہ اس کی والدہ اس فیصلےمیں اس کے ساتھ تھیں
لیکن معاشرہ ہمیشہ سے ان لوگوں کے راستے میں رکاوٹ بنتا آیا ہے جو حق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔اکثر لڑکیاں اس کے خوابوں پر ہنستی تھیں،اس کا مذاق اڑاتی تھیں۔مبین کو دکھ ہوتا،وہ الجھتی،اور دل میں سوالات ابھرتے:
کیا میں عالمہ نہیں بن سکتی؟
کیا میں اللہ کے دین کے لیے کام نہیں کر سکتی؟
آخر میں کیوں نہیں؟
مبین کی کمزوری اس کا جذباتی ہونا تھا۔صبر کم تھا،اور بات بات پر لڑ پڑتی تھی۔اس کی ماں اسے بار بار صبر کی تلقین کرتی۔وہ کبھی قرآن کی آیت "ان اللّٰہ مع الصابرین"سناتی،کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے مثالیں دیتی،اور کبھی احادیث کے ذریعے بیٹی کے دل کو نرم کرتی۔وہ کہتی:
بیٹی،صبر ایک خزانہ ہے جو ہر کسی کو نہیں ملتا۔
اللہ سب دیکھتا ہے،ہم بھول سکتے ہیں،اللہ نہیں بھولتا۔
صبر کرنے والوں کا بدلہ اللہ خود دیتا ہے۔
ایک دن مبین نے آہستہ سے پوچھا: ماں،کیا واقعی اللہ انصاف کرتا ہے۔
ماں نے شفقت سے جواب دیا
ہاں بیٹا،اللہ کا انصاف کامل ہوتا ہے۔صبر آسان نہیں ،لیکن جسے اللہ توفیق دے،وہی دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوتا ہے۔یہ بات مبین کے دل میں اتر گئی۔اس نے خود کو بدلنے کی کوشش کی۔وقت گزرتا گیا اور لوگوں نے محسوس کیا کہ مبین میں صبر آ رہا ہے۔جیسے اللہ نے اس کے اندر صبر پیدا کر دیا ہو۔ایک دن مبین کی نظروں سے یہ حدیث گزری۔۔۔
"اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے،اسے دین کی سمجھ عطافرماتا ہے۔"(صحیح مسلم)
یہ حدیث اس کے دل میں روشنی بن کر اتری۔مبین کا سفر بدل چکا تھا۔میٹرک مکمل کرنے کے بعد اس نے جامعہ میں داخلہ لیا۔وہ ایک بہترین عالمہ بن گئی۔ قرآن کی تفسیر پڑھنے کے بعد اس کا حال ایسا تھا جیسے قرآن اس کے دل میں اتر گیا ہو،اس کی روح کا حصہ بن گیا ہو،اب وہ ہر معاملے میں قرآن و سنت کو رہنما بناتی تھی۔
اس کی زندگی بدل چکی تھی۔نماز کی پابندی، قرآن کی تلاوت،چلتے پھرتے اللہ کا ذکر،اور بچوں کو دین سکھانا اس کا روز مرہ کا معمول بن چکا تھا۔مبین سجدے میں گر کر شکر ادا کرتی تھی کہ اللہ نے اس کے اندر صبر جیسی عظیم صفت پیدا کی،جس کی وجہ سے آج وہ اپنے مقصد میں کامیاب و کامران ہے ۔
اس کی زندگی دوسروں کے لیے ایک پیغام بن چکی تھی کہ صبر کرنا واقعی مشکل ہے،لیکن جو صبر کرتا ہے اللہ اس کا اجر ضائع نہیں کرتا،وہ دنیا میں بھی کامیاب ہوتا ہے اور آخرت میں بھی انشاءاللہ سرخرو ہوگا۔




































