
تیسرا قدم
نیت کی تطہیر اور اہداف کا تعین
ام محمد عبداللہ
"عمل کتنا ہی بڑا اور بھاری کیوں نہ ہو، اگر نیت خالص نہ ہو تووہ رب کےہاں بےوزن ہو جاتا ہے۔“جب ہم ترقیِ ذات کی بات کرتے ہیں تو سب سے
پہلا اور بنیادی سوال یہی ہونا چاہیے: کیا میری نیت اللہ کی رضا ہے؟
اگر ہماری نیت صرف لوگوں کو متاثر کرنا ہے، صرف خود کو دوسروں سےبہترثابت کرنا ہے،صرف دنیاوی فوائدسمیٹناہےتوپھرہماراعمل چاہےکتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، وہ اندر سے کھوکھلا رہ جاتا ہے۔سب سےاعلیٰ نیت یہی ہو سکتی ہے کہ ہمارا ہر عمل، ہر جدوجہد صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو ۔ ت
رقیِ ذات کے اس سفر میں رک جائیں اور سوچیں:کیا میری نیت خالص ہے؟کیامیرےنظریےاورمشن کامرکزومحوررب کی رضا ہے؟ کیا میں ہر دن کے کام سے رب کو خوش کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں؟
دعا مومن کا ہتھیار ہے، تو اس اہم ترین مقام پر اپنا یہ ہتھیارتھام لیں، اوراللہ تعالیٰ سےدعا کریں:”اےاللہ! ہمارے ہر عمل کو صرف اپنے لیے خاص کر لے، ہماری نیت کو پاک کر دے اور ہمارے معمولی عمل کو بھی اپنی رضا سے وزنی بنا دے۔“
حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ کے عزم کو بھی دہرا لیجیے:”میری نماز اور میری قربانی، میرا جینااورمیرامرناسب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔“
اب اس سفر میں آگے بڑھیں اوراہداف کاتعین کریں۔اہداف، وہ چھوٹے چھوٹےزینےہیں جوہمیں ہماری منزل یعنی نظریے تک پہنچاتے ہیں۔
اہداف کے لیے تین سنہری اصول یہ ہیں: نہ بہت آسان کہ چیلنج باقی نہ رہے،نہ بہت مشکل کہ دل ہی ہارجائے بلکہ اعتدال اور توازن کے ساتھ، حقیقت پسندانہ اور نتیجہ خیز ہوں۔
عملی حکمتِ عملی یہ ہے کہ ایک گول پلینر بنائیں:اس میں سالانہ مقصد(نظریےکےمطابق)،ماہانہ اہداف(بڑے مقصد کو مہینوں میں تقسیم کریں)، ہفتہ وار منصوبہ (ہر ہفتے کے لیے ایک مخصوص ہدف)، روزانہ عمل (چھوٹے مگر مسلسل اقدامات)
ماہرین اہداف کے تعین کے 6 مؤثر طریقے بتاتے ہیں
پہلا طریقہ ایس۔ایم۔اے۔آر۔ٹی (سمارٹ) اصول ہے۔
ایس – واضح ہو (اسپیسفک)
ایم – قابلِ پیمائش ہو (میژریبل)
اے – قابلِ حصول ہو (اچیویبل)
آر – مقصد سے جڑا ہو (ریلیونٹ)
ٹی – وقت کے ساتھ محدود ہو (ٹائم باؤنڈ)
دوسراوُوپ طریقہ ہے
ڈبلیو – خواہش (وِش): کیا چاہتے ہیں؟
او – نتیجہ (آؤٹ کم): انجام کیا ہو؟
او – رکاوٹ (آب اسٹیکل): کون سی رکاوٹ آ سکتی ہے؟
پی – منصوبہ (پلان): اسے کیسے مکمل کریں گے؟
تیسرا بیک ورڈ پلینِّگ ہے۔اسے ہمیں الٹی منصوبہ بندی بھی کہہ سکتے ہیں۔
آخر میں جو حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہاں سے پیچھے کی طرف منصوبہ بنائیں۔
چوتھا روزانہ عملی منصوبہ ڈیلی پلینِّگ کے نام سے جانا جاتا ہے
روزمرہ کے کاموں میں چھوٹے مگر مربوط اقدامات
پانچواں نیت اور دعا کا اصول ہے
ہر ہدف سے پہلے خالص نیت اور خالص دعا
چھٹا طریقہ یہ ہے کہ اپنا ایک نگران ساتھی مقرر کریں۔
یعنی کسی قریبی شخص کو اپنا ہدف بتائیں جو وقتاً فوقتاً آپ کا محاسبہ کرے۔
اپنے ہر قدم پر نظر رکھیں کہ کیا آپ کا ہر چھوٹا قدم آپ کے نظریے، مشن اور نیت سے جڑا ہوا ہے؟
جاری ہے۔۔۔




































