
عائشہ بی
عائشہ یاسمین کا بیٹا میرا پیارا نواسہ مجھے چھوٹی نانی کہتا تھا،اس کانام عبدالرحمٰن تھا.پیارسےسب اسےمانی کہتےتھے۔۔۔ جب چھوٹا تھا ہمارے گھر رکنے
آتا تھا تووہ اوراس کی چھوٹی بہن مدیحہ سب سےپہلےمجھےملنےکےلیے اوپر والی منزل پر پہنچ جایا کرتےتھےکیونکہ میں بھی بچوں سے بہت پیار کرتی تھی اور بچے بھی۔
بچپن میں ماں کوتنگ کرتا لیکن پھرماموں اسےپرندےدکھاتے بہلاتے تھے ۔ وہ پرندوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوتااوررونابھی بند کردیتا۔۔ ایک مرتبہ جب وہ بہت چھوٹا تھا تو اس کے عالی ماموں نے اس کا شوق دیکھ کر اسے اپنا ایک چوزہ دے دیا تھا۔۔ وہ چوزہ گھر لے گیا اس کا خیال رکھتا اس کے بعد عالی ماموں کو ککو ماموں یعنی مرغی والےماموں کہہ کرپکار تا تھا، پھر اس نے تنگ کرنا چھوڑ دیا۔ سب سے محبت پیار سے پیش آتا ۔ سب سے بڑے ماموں جان عبداللہ اسے بہت پیار کرتے اور وہ بھی ان سےپیار کرتا تھا۔
بچپن میں عبداللہ اس کے طرح طرح کے پوز بنا بنا کرتصویربناتا تھا۔۔ مانی سب سے ادب اور احترام سے پیش آتا ۔ پڑھائی میں بہت تیز تھا ،ہمیشہ فرسٹ آتا ،ہر سال اسکول میں ٹاپ کرتا۔اس کی امی نےاسی لیےقرآن حفظ کروایا۔ حفظ میں بھی مدرسے میں اس کو ممتاز جید جدا کی سند ملی۔ پھروفاق المدارس کا امتحان بھی اعلی ٰدرجے سے پاس کیا، حفظ کے بعد دوبارہ اسکول گیا تو پھر سے فرسٹ آنے لگا اس کی امی پیرنٹس میٹنگ میں گئیں تو پرنسپل اور ٹیچرز نے بہت تعریف کی ہیڈ پرفیکٹ بن گیا تھا۔ اکثر چھٹی کے دن صبح فجر کے بعد بچوں کو جمع کرکے کرکٹ کھیلتا پھر درس کرکے ناشتہ کرواتا چائے پراٹھے کھلاتا ۔۔ ایک دن ڈبو گیم سینٹر کے باہر ماموں نے اسے دیکھا! گھر آیا تو ماموں ڈانٹا بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بچوں کو وہاں سے پارک لے جاتا اور جوس پلاتا ہے اور پھر اچھی باتیں بتاتا کر سیدھے راستے پر لانے کی کوشش کرتا تھا۔ سبحان اللہ
گلی محلے کے ضرورت مند بچوں کو مفت ٹیوشن دیتا، قرآن پڑھانے کے پیسے نہیں لیتا تھا (یہ بات اس کی شہادت کے بعد معلوم ہوئی)۔اس کی شہادت کا سن کر دور دور سے لوگ پہنچ گئے تھے۔ ہم گھر والوں کو نہیں پتا تھا کہ اتنےسارے لوگ مانی کوجانتے تھے اور آنسو بہا کر کہتےتھے کہ " یہ ہمارے بچوں کو اسلامی تعلیم دیتا، نیکی کی طرف راغب کرتا تھا۔ بچپن میں جب سے اس کی چھوٹی نانی نے اسے ساتھی رسالہ پڑھنےکیلئے دیا تو وہ خود پڑھتا اور دوستوں کو پڑھواتا تھا۔ کچھ بڑا ہوتے ہی، اس نےاپنے ماموں کے ساتھ بچوں کےبزم ساتھی کے پروگرام نیک بنو نیکی پھیلاؤ میں شرکت کرنا شروع کردی اور میٹرک میں جمیعت میں شامل ہوگیا،اللہ تعالیٰ نے اسےدین کا داعی بنا دیا۔
ٹیوشن کے پیسےجمع کرکےاس نےقربانی بھی کی اورسب خاندان والوں کی دعوت کی ماموں اور کشمش کے ساتھ مل کر تکے بنائے اور سب کی دعوت کی۔ اے ون گریڈ سے میٹرک کیا۔کالج میں بھی پسندیدہ رہاسیکنڈ ایئر میں آیا تو کالج والوں نے اس سے بڑے فنکشن میں کمپیئرنگ بھی کروائی۔ کالج میں ذہانت کے ساتھ قرات ،نعت اور ترانے پڑھنے میں بھی مقبول تھا۔ ماموں کی شادی میں جہلم سے اس کی خالہ آئی تھیں، ان کی چھوٹی بچی بہت تنگ کر رہی تھی، کسی کو پہچانتی نہ تھی، ماں بیچاری تیار کیسے ہوتی ؟ ایسے میں اس نے منہ دوسری طرف کرکے اس بچی کو گود میں اٹھایا باہر گھمانے لے گیا اور چیز دلا کر لےآیا۔ بچی خوش ہوگئی تھی۔ الحمدللہ اور بچی کی ماں بھی تیار ہوگئی تھی ، جہاں کہیں کوئی بڑا پروگرام ہوتا اسے قرات ،نعت اور ترانے کے لیے بلایا جاتا یہ وہاں پہنچ جاتا۔ ماموں ڈانٹتے کہ پڑھائی میں دھیان دو اپنا کیرئیر بناؤ ماں کے اکلوتے بیٹے ہو تم اس کا خیال کرو۔
ایک دن ماں سے کہا میں انٹر کے امتحان دے کرجاب کروں گا۔ آپ نوکری سے استعفی دے دیں، ماں نے استعفی دے دیا لیکن پھر بارہ مئی 2004 کو ضمنی الیکشن میں جمیعت کی طرف سے ڈیوٹی دینے چلاگیا۔ پیپرز ہورہے تھے ۔ خالہ نے منع کیا پڑھائی کا خیال کرو تو کہا تیاری ہے۔ خالہ نے پھرکہا بیٹا وہاں خطرہ ہوگا لیکن نہ مانا کہا باطل کا راستہ روکنا اہم ہے ،یہ حق اور باطل کا معاملہ ہے۔ اگر میرے نام کی کوئی گولی ہے تو میں گھر میں چھپ کر بھی بیٹھا رہوں گا تو وہ کہیں نہ کہیں سے راستہ بناکر مجھ تک پہنچ سکتی ہے ۔. مجھے نہ روکیں خالہ لاجواب ہوکر چپ ہوگئیںاور وہ راہ حق کا راہی جمیعت کا امیدوار رکن انیس سال ایک ماہ کی عمر میں باطل کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرگیا۔
قرآن کہتا ہے شہید زندہ ہیں۔ وہ تو اپنےرب کے پاس سےرزق پارہےہیں۔وہ اپنےتمام چاہنےوالوں اورہمارے دلوں میں اپنی پیاری یادوں،اپنے پیار مسکراہٹ ، آواز اور اچھی باتوں سے زندہ ہے، اور اس کے گائےترانوں کی آواز آج بھی زندہ ہے۔اس کا گایا آخری ترانہ "تو رہ نورد شوق ہے،منزل نہ کر قبول۔۔ لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو مہمل نہ کر قبول۔۔۔" یہ ترانہ اس کے جانےکےبعد اس کی آوازاورپہچان بن گیا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہےکہ وہ خود آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے.۔
جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا
وہ شان سلامت رہتی ہے
مانی کی ہر ڈائری میں یہ لکھا ہوا تھا کہ" اللہ پاک مجھے۔۔۔ سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت عطاء فرمائے ۔آمین یارب العالمین




































