
لاٸقہ خالد
حوصلوں کا قافلہ کبھی رکا نہیں کرتا۔ طوفان جتنے بھی شدید ہوں، موجیں جتنی بھی بلند ہوں اور راستے جتنے بھی پرخطر ہوں، وہ قافلے جن کی بنیاد
حوصلے پر ہو، منزل تک ضرور پہنچتے ہیں۔ ان کی منزل صرف ایک ساحل نہیں ہوتی بلکہ وہ خواب، امید اور آزادی کی ایک تعبیر ہوتے ہیں۔
یہ قافلے جب نکلتے ہیں تو ان کے پاس نہ مال و زر ہوتا ہے، نہ دنیاوی طاقت، مگر ان کے پاس سب سے قیمتی سرمایہ ایمان، صبر اور یقین ہوتا ہے۔ وہ قافلے جن کے دلوں میں ایمان کی شمع روشن ہو، آنکھوں میں منزل کی جھلک ہو اور قدم دعاؤں کے سائے میں اٹھتے ہوں، ان کو نہ کوئی اندھیرا روک سکتا ہے نہ کوئی رکاوٹ۔
یہ قافلہ کبھی صبر کے نام پر قربانی دیتا ہے، کبھی خون سے راستے رنگین کرتا ہے اور کبھی آنسوؤں سے مٹی کو سیراب کرتا ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ حوصلوں کے قافلے ہمیشہ اپنی منزل تک پہنچے ہیں۔ چاہے وہ کربلا کا کارواں ہو یا فلسطین کے شہیدوں کی کشتیاں، چاہے تحریکِ آزادی کے دیوانے ہوں یا آج غزہ کے معصوم بچے، سب کا سفر ایک ہی سمت ہے—ساحلِ نجات کی طرف۔
اسی قافلے کی ایک جھلک آج بھی دنیا کے سامنے ہے۔ گلوبل صمود فلوٹیلا کے مسافر، جو غزہ کے محصور بچوں تک روٹی، دوا اور امید لے کر روانہ ہوتے ہیں، جانتے ہیں کہ راستے میں طوفان بھی ہیں اور دشمن کی بندوقیں بھی مگر ان کی کشتی امید کا لنگر ڈالتی ہے، کیونکہ یہ صرف سامان نہیں لے جا رہی بلکہ امت کی غیرت، انسانیت کا درد اور حوصلے کی معراج اپنے ساتھ لیے ہوئے ہے۔ غزہ کی مائیں دعاؤں میں اس قافلے کو یاد کرتی ہیں، بچے اپنی معصوم آنکھوں سے اس کے راستے تکتے ہیں اور شہداء کی روحیں اس کی محافظ بن جاتی ہیں۔ یہ قافلہ پیغام دیتا ہے کہ محصور دلوں کو قید نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی سمندر کے راستے روکے جا سکتے ہیں، جب سفر حوصلے کے نام پر ہو۔
حوصلہ وہ طاقت ہے جو انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتی۔ جب بدن کمزور پڑ جائے، زخم گہرے ہو جائیں اور دنیا مایوس کر دے، تب یہی حوصلہ دل کو سہارا دیتا ہے اور قدموں کو منزل کی طرف بڑھاتا ہے۔ یہی حوصلہ قافلوں کو ساحل تک لے جاتا ہے۔ اور ساحل پر پہنچنے والے کبھی ہارے ہوئے نہیں ہوتے، وہ تاریخ کا فخر، انسانیت کی عزت اور قربانیوں کی روشنی ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ ان کے نقشِ پا آنے والوں کے لیے چراغِ راہ بن جاتے ہیں,لیکن دوسری طرف ایک تلخ حقیقت بھی ہے کہ وہ مجاہدین جو اللہ کی وحدانیت کا اعلان کرتے ہیں اور خدمتِ خلق کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیتے ہیں، دنیا کی طاقتیں ان کو اپنا دشمن بنا لیتی ہیں۔ ہمارے سابق سینیٹر مشتاق احمد جیسے رہنما جنہیں سرِعام گرفتار کر لیا گیا تھا ، دراصل حق کی صدا بلند کرنے کی سزا بھگت رہے ہیں۔ وہ غیرت مند مردوں کی روشن مثال تھے مگر افسوس کہ ہمارے حکمران غفلت کی نیند سو رہے ہیں۔ امریکہ ان کو پیسوں کی لوریاں دے کر حقیقت سے دور رکھتا ہے۔الحمد اللہ فلوٹیلا کے قافلے میں شریک لوگ اب رہا ہوچکے ہیں ۔جنگیں کوششوں اور محنت سے جیتی جاتی ہیں ۔
ہماری ایک بیٹی عافیہ برسوں سے قید میں ہے۔ اس کے مقدر میں انتظار لکھ دیا گیا، صرف اس لیے کہ وہ داعی الی اللہ تھی۔ ظلم و جہالت کے اندھیرے آج بھی قائم ہیں، بربریت کے بت آج بھی کھڑے ہیں اور حکمرانوں نے دولت کو ہی زندگی کا مقصد بنا رکھا ہے۔
اس کے باوجود دنیا کے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جوخود ایمان کی گہرائیوں سے ناواقف ہیں، مگر پھر بھی انسانیت کی فلاح کے قافلوں میں شامل ہیں۔ ان کے حکمرانوں میں غیرت موجود تھی، اسی لیے وہ اپنے محبوسوں کو ایک دن میں رہا کروا لیتے ہیں۔ اور ہم؟ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا صرف مذمت کرنے سے ملک بدل جائے گا؟ ہرگز نہیں! اس کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔ ہمیں خوابوں سے بیدار ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، کیونکہ صرف زندہ قومیں ہی اپنے قافلوں کو ساحل تک پہنچا پاتی ہیں۔
اے غیور اللہ!
ظالموں کی طاقت کو خاک میں ملا دےاور مظلوموں کو وہ عزت بخش جو تیرے وعدے کے مطابق زمین کے وارثوں کو ملتی ہے۔
آمین یا رب العالمین ?✨




































