
حبیبہ اسماعیل
سمعیہ کو یہ دوپٹہ سنبھال کے پھیلا کراوڑھنا ہمیشہ ایک عذاب کی طرح لگتا اوروہ اس سے کسی طرح موقع ملتے ہی رہائی پانا چاہتی تھی لیکن بوا جی ( دادی) ہی اسے اور گھر میں امی چھوٹی بہنوں کو بھی ہر وقت ٹوکتی رہتی تھیں ۔
سمعیہ بچپن ہی سے بڑی ذہین اور خوبصورت تھی، کھلتی رنگت اور صحت مند جسم ،وہ تو تین برس کی تھی جب پانچ برس کی لگتی تھی ، اس کا اٹھان شروع سے ہی بہت اچھا اور نمایاں تھا، جلد ہی وہ پھولی پھولی فراکوں کے دور سے نکل کر سن بلوغت کو پہنچ گئی۔۔ مگر وہ ایسی لاابالی اور لا پرواہ تھی کہ اس دور میں بھی اسے ترتیب سے ڈوپٹہ سنبھالنا نہ آیا، لیکن بوا جی پکڑ پکڑ کر اس کا آنچل اس پر پھیلاتیں، اسے سمجھاتیں ،بیٹا یہ تو چادر ہے جو عورت کی حیاء کی امین ہے ۔اس کے حسن و کشش پر تنا سائبان ہے ،اگر یہ نہ رہے تو بری نظر کے تیر حیاء کو تار تار کر دیتے ہیں۔
عصمت زخم آلودہ ہو جاتا ہےاور عورت عورت پن سے خالی ہو جاتی ہے، عورت پن کا احساس اس کا فخر ہے ،اس کی شناخت اس کی حیاء ہے۔ اس کی بے داغ چادر عصمت ہے اور ترتیب سے سنبھلا پھیلا آنچل ہی اس کی عزت کا محافظ ہے، مگر وہ ایک کان سے سنتی اور دوسرے سے اڑادیتی اور بوا جی ماتھا پیٹ کر رہ جاتیں ۔
خدایا اس کو عقل دے کہ میری بات سمجھے ۔ بوا جی جتنا اس کی لا پر وائی پر کڑھتیں سب گھر والے سمجھاتے کہ بوا جی ابھی بچی ہے، اس کی عمر ہی کیا ہے، خود ہی سمجھ جاۓ گی تو بوا جی کہتیں ۔۔۔۔ عمر چھوٹی ہے مگر ماشاء اللہ یہ اپنی شاندار اٹھان کی وجہ سے جوان لگتی ہے اور اس دور میں ہے کہ نگاہ ایک بار آٹھ کر دوبارہ دیکھنے کو چلاتی ہے۔۔ بوا جی اپنی دور اندیشی سے دیکھ رہی تھیں مگر سب نے وہ نظر نہ پہچانی ۔یوں وہ سن بلوغت سے نکل کر در شعور کو پہنچ گئے مگر پھر بھی آنچل سنبھالنے کا شعور نہیں آیا ۔
اصل میں بوا جی کے بیٹے بہو بھی اتنے سخت پردے اور حجاب کے قائل نہیں تھے ،گھر کا ماحول ایسے ہی تھا۔ بس دنیا داری میں زیادہ رہ کر اور دین کی سمجھ بوجھ بس واجبی سی نماز روزے اور دوسرے عوامل کو اپنی مرضی سے کرتے ہوۓ گزارنے کے قائل تھے لیکن سمعیہ جو گھر کی بڑی بیٹی تھی اور بوا جی اسے ہی زیادہ ٹوکتیں کہ اس کی دیکھا دیکھی چھوٹی دو بہنیں بھی اس کی طرح بنیں گی جبکہ ان کی ماں اس طرف سے بے فکر تھیں ،یہ بات بوا جی کو دکھی کرتی کہ ان کا بیٹا بہو ایک مسلمان گھرانے کے ہوتے ہوۓ کیوں اس طرف سے غافل تھے۔
اس دن امی چھوٹی بہنوں کے ساتھ اپنی بہن کے گھر چلی گئیں اور سمعیہ بوا جی کے ساتھ ہی گھر میں رہ گئی ، اس نے منع کر دیا تھا جانے سے ۔۔ بھائی کالج اور ابو آفس جاچکے تھے ۔۔ دوپہر کے کھانے اور ظہر کی نماز پڑھ کر بوا جی اپنے کمرے میں آرام کرنے چلی گئیں اور سمعیہ لاؤنج میں بیٹھ کر مزے سے موبائل لے کر حسب معمول ڈوپٹے سے بے نیاز سرخ لان کی چھوٹی سی کرتی اور اس پر سفید کھلے پائنچوں کے پاجامے میں ملبوس اور بھی حسین لگ رہی تھی مگر وہ کہاں سمجھتی تھی ۔وہ اور گھر والے اٹھارہ سال کی ہونے کے باوجود بچی ہی سمجھتے ۔ کچھ دیر ہی ہوئی کہ گھر کی ملازمہ نے باہر سے گھنٹی بجنے کی آواز پر جا کر دیکھا اور آکے بتایا کہ آپ کے چچا کے بیٹے آۓ ہیں ۔ اتنے میں وہ راحم (چچا ) کا بیٹا اندر سلام کرتا لاؤنج میں ہی چلا آیا اور سمعیہ بوکھلا سی گئی کہ اس نے تو اس وقت پرسکون ہو کر کہ بوا جی تو اب شام تک سوئیں گی اور ڈوپٹے کی روک ٹوک سے کچھ وقت تو نجات ہوگی ،یہ سوچ کر دوپٹہ ساتھ رکھنے اور لینے کی زحمت ہی نہیں کی تھی اور بے فکر تھی کہ یہ موقع کم ہی ملتا تھا اسے ۔ لیکن جانے کیوں اس وقت وہ خود کو راحم بھائی کے سامنے ڈوپٹے کے بغیر اور آس پاس نہ گلے میں ہونے سے اس طرح محسوس کر ہی تھی جیسے وہ کسی کھلے بیاں باں میں غیر محفوظ سی کھڑی ہے ۔
اور کچھ ہی دیر میں دادی کے کمرے میں آجانے سے وہ جلدی سے باہر نکل گئی ۔
اور رات میں بوا جی کے ساتھ سب گھر والے بیٹھے ہوۓ دن بھر کی باتیں کررہے تھے ، روز کی طرح اور سمعیہ بواجی کے کندھے سے لگی انھیں اپنے آج کے واقعہ اور اپنے ڈوپٹے کی رہائی سے شرمندگی کا اظہار کر چکی تھی اور خاص بات یہ اس وقت ڈوپٹے کو پورے اہتمام کے ساتھ اس طرح اپنے اوپر لپیٹے ہوۓ تھی جیسے وہ دوپٹہ نہیں اس کا محافظ ہے، جو اسے زمانے کی بری تیر نظر سے بچانے والا ہے اور یہ احساس اسے ارحم کی چند لمحوں کی اس نظر سے ہوا تھا جو اس سے پہلے کبھی اس نے محسوس کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی تھی۔ دادی کے لاکھ بار سمجھانے اور ٹوکنے کے باوجود اسے آج پہلی بار ڈوپٹے سے رہائی سے خوشی نہیں ہوئی تھی ۔بواجی بہت خوش اور اللہ کی شکر گزار تھیں کہ جس نے ان کی دلی خواہش اور ان کی پوتی کو حیاء کے احساس سے آشنا کردیا تھا۔




































