
عالیہ روف
آج کادن کتنا خاص ہے بیان کیسے کروں کہ جس ہستی کے لیے رب کریم خود درود پڑھتا
ہے اور جس ہستی کے ہم امتی ہیں ،الحمداللہ اس پاک ہستی ہمارے پیارے آقا کی میلاد کا دن ہے ،ہر کوئی اپنی دل سے خوشی کا اظہار کرتا ہے ۔یہ محبت اور عقیدت سے بھرے جذبات ہر وہ دل سمجھ سکتا ہے جس کے دل میں نبی کی محبت کا دیا جلتا ہے۔
اللہ کے خاص احسانوں میں سے احسان ہے کہ ہمیں امت محمدی میں پیدا کیا اور اپنے لاڈلے نبی کے امتی ہونے پر ہمیں بڑا فخر ہے، شکر ہے میرے رب کا کہ جس نے ہم گناہ گاروں کو یہ شرف بخشا ،دنیا میں اور بھی نبی آئے اور سب قابل محترم بھی ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے، سارے نبیوں کے سردار ہمارے پیارے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں ۔پیارے نبی سے محبت اور عقیدت کا اس سے بڑا کیا ثبوت پیش کریں کہ جب بھی ذکر رسول آتا ہے ،عجیب سی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ دل میں سکون کی لہر اور آنکھ میں نمی سی اتر آتی ہے ۔جیسے جیسے نبی پاک کی قربانیوں کے بارے میں آگاہی ہوتی جارہی ہے ،محبت دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے ،جب بھی یہ خیال آتا ہے کہ ہمارے پیارے آقا ہماری بخشش کے لیے اللہ سے دعائیں کر کر کے روتے رہے، تب دل بہت اداس ہو جاتا ہے ۔
ہم ذرا بھی نہیں سوچتے کہ ہمارے پیارے نبی نے ہمارے لیے کیسے راتوں کو جاگ جاگ کے دعائیں کیں ، اپنی اولاد سے بڑھ کر ہمیں چاہا ،قیامت کا منظر جو بیان ہوا ہے ،اس میں ہر کوئی اپنی فکر میں ہوگا اور اس وقت بھی ہمارے پیارے آقا یا ،امتی پکار رہے ہوں گے جبکہ باقی سب انبیا کرام یا نفسی کہیں گے اور نفسا نفسی کا عالم ہوگا، زندگی کا کوئی بھی مقام ہو یا آخرت کا کوئی مقام ،ہمارے نبی نے ہمارے رہنمائی کی ہر معاملے کو کھول کرعملی طور پر بیان کیا ،ہمیں کوئی مشکل کا سامنا نہ رہے۔ دین کو آسان اور مکمل کر دیا۔
نماز کا تحفہ ،نجات کی صورت ،توبہ کا دروازہ ،گناہوں سے بچنے کے طریقے ،قرآن وسنت کی تاحیات رہنمائی ہر بات کو تفصیلا ًبیان کیا ،ہمارے لیے ہر معاملے میں آسانی مہیا کردی ۔آقا ئے کریم کی ذات پاک اللہ کا دیا ایک ایسا انمول تحفہ اور احسان ہے کہ کہ جس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جس نبی نے ہماری بخشش کےلیے دعائیں مانگیں ہم اپنے نبی کی دل آزاری نہ کریں۔ اللہ اور اللہ کے نبی کی اطاعت کریں تاکہ دنیاوآخرت میں سرخرو ہو سکیں۔
یہ نہ ہو کہ دنیا کی اس دوڑ میں اپنی حقیقت کو فراموش کر دیں اور آخرت کے خساروں کو اپنی قسمت کر لیں ،ہمیں تو اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ ہمیں تو تیاری ایسی رکھنی ہے کہ ہمارے رب کریم کے سامنے اور ہمارے نبی کے سامنے ہمیں شرمندگی نہ اٹھانا پڑے ۔ایک بہت ہی پیاراسا وعدہ خود سے آج کے دن کرنا ہے کہ اب کے آنے والے دنوں میں ہر اس عمل سے بچنا ہے کہ جو رب کریم اور نبی پاک کو ناپسند ہیں ،اس سے بڑھ کر نبی پاک کی میلاد پر اور کیا ہی ہو سکتا ہے، اب سوچنا یہ ہے کہ یہ وعدہ انفرادی ہے یا اجتماعی آیئے درود پاک پڑھئے اور اس نزرانے کے ساتھ ایک پیارا سا عہد کرتے چلیں ۔جزاک اللہ




































