
عائشہ بی
علم کا سمندر علم کاسمندر
جاؤ ڈوبو اس کے اندر موتی بن کر باہر نکلو"
تعلیم حاصل کرنا ہر انسان مرد اور عورت دونوں پر فرض ہے۔تعلیم کسی قوم کی ترقی کی بنیاد ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو جہالت کے اندھیروں کو ختم کرتی ہے اور انسان کو شعور وفہم عطا کرتی ہے۔ ایک پڑھی لکھی قوم ہی اپنے مستقبل کو روشن بنا سکتی ہےکیونکہ علم انسان کو وہ قوت دیتا ہے جس سے وہ زندگی کے ہر میدان میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ جب قوم ترقی کرے گی تو ملک ترقی کرے گا لیکن آج کے دور میں تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ انسان کی شخصیت، کردار، سوچ اور عمل کو نکھارنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔
"وہ قومیں جو تعلیم کو اپنی ترجیح بناتی ہیں، دنیا میں نمایاں مقام حاصل کرتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اب بھی ایسے لاکھوں بچے ہیں جو اسکول جانے سے محروم ہیں۔ غربت، ناانصافی یا وسائل کی کمی ان کے خوابوں کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اگر ہم واقعی ترقی یافتہ پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔ ہر بچے کو اسکول بھیجنا، اساتذہ کا احترام کرنا اور تعلیمی نظام کو مضبوط بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکمرانوں کو اس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے،افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو کوئی دلچسپی نہیں ۔
تعلیم صرف نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک باوقار، بااخلاق اور بامقصد زندگی گزارنے کی کنجی ہے۔ وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جنہوں نے قلم کی طاقت کو تلوار سے زیادہ اہم سمجھا۔
آؤ، ہم سب یہ عہد کریں کہ اپنے بچوں کو پڑھائیں گےخود بھی سیکھنے کا عمل جاری رکھیں گے کیونکہ"پڑھیں گے، لکھیں گے، تب ہی تو آگے بڑھیں گے!" آیئےہم سب مل کر نیک صالح حکمران کا انتخاب کریں گے تاکہ اللہ پاک ہمارے پاکستان کو تباہی سے بچا سکے۔




































