
نصرت مبین
تم کیا جانو محبت کا مطلب ۔۔۔۔جب مل جا ئے تو قسمت سے ماں کی محبت مل جائے ۔۔۔۔۔
ماں کا ساتھ مل جائے تو زندگی حسین ہو جا تی ہے ۔ماں کا ساتھ نہ ہو ،ماں کی محبت نہ ہو تو زندگی موت سے بد تر ہے، شخصیت ادھوری ہوتی ہے وجود میں خالی پن ہوتاہے۔محبت کی" ح" کا مطلب حکومت ہے، ماں کے دل پر حکومت ،شہزادوں کی طرح زندگی بسر ہو تی ہے۔اگر ماں کی محبت ساتھ نہ ہو یاماں ساتھ نہ ہو تو ساری زندگی حسرت اوریاس میں گزرتی ہے۔
محبت کی" ب "اولاد کو بہادر اور نڈر بناتی ہےاور اگر ماں نہ ہو تو یہ زندگی دشوار ہوجاتی ہے، لوگ زندگی میں گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا ہوتے ہیں ،ماں کی عدم موجود گی انہیں ڈستی رہتی ہے ۔ماں کی محبت میں بچے شہزادوں اور شہزادیوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ تخت و تاج کے وارث ہوتے ہیں، اگر ماں نہ ہو یا ماں ک محبت نہ ہو تو بھیڑ میں بھی انسان تنہاہوتا ہے۔ہجوم میں بھی تنہائی چیختی چنگھاڑتی ہے۔
دنیا سے رشتہ تو پیدائش کے بعد بنا مگر ماں سے یہ رشتہ بہت قدیم ہے ،پیدائش سے بھی پہلے کا۔ماں خود جاگ کر اولاد کی نیند کی حفاظت کرتی ہے۔خود بھوکی رہ کر اولاد کی بھوک مٹاتی ہے۔اولاد کو تسلی دیتی ہے کہ مجھے بھوک نہیں یا جو شے اولاد کو پیش کی ہے وہ اسے (ماں) کو پسند نہیں ہے تاکہ بچے احسا س محرومی کا شکار نہ ہوں کہ بچوں نے ماں کو نہیں کھانے دیا بلکہ خود کھا لیا ۔
ماں کی آنکھیں میرے خواب دیکھتی ہیں اور ان کی تعبیر کے حصول کے لئے جان و مال کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتی اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد منزل پر پہنچنے کے بعد سجدہ شکر بجا لاتی ہیں ۔ درد اور تکلیف کو اولاد سے زیادہ محسوس کر تی ہے ۔اولاد کو بھی ماں کی گود میں سکون ملتا ہےکیو نکہ یہی تو اولاد کے وجود کی بنیاد ہے۔ماں کے لمس میں سکون ہے۔ماں کی آغوش میں درد بھول جا تا ہے، تھکن اتر جاتی ہے،ماں مجسم دعا ہے ۔ماں کے بارے میں لکھتے ہوئے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں ۔علم خزانےمیں تشنگی محسوس ہو تی ہے ,ماں شفقت ہے ،محبت ہے،چاہت ہے،دعا ہے ،ایثار ,قربانی اور وفا کا پیکر ہے۔جنت کے حصول کا ذریعہ ہے جسے حاصل کرکے زندگی خوشحال اور خوش گوار ہوتی ہے۔




































