
ام عماد
حضرت ضرار بن الأزور رضی اللہ عنہ ایک بہادر صحابی اور ان کی نڈر بہن خولہ بنت
الأزور رضی اللہ عنہا ۔مدینہ منورہ میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ایک نہایت بہادر اور دلیر صحابی رہتے تھے۔ان کا نام تھا حضرت ضرار بن الأزور رضی اللہ عنہ۔
سب لوگ ان کی شجاعت، دلیری اور اللہ کے لیے لڑنے کو جانتے تھے۔جب حضرت ضرار رضی اللہ عنہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوتے تو اکثر کالی چادر اوڑھ لیتے,دور سے یوں لگتا جیسے ایک کالا شیر میدان میں دوڑ رہا ہو۔
ہر مسلمان سپاہی انہیں دیکھ کر خوش ہوتا اور دشمن ڈرنے لگتے۔حضرت ضرار رضی اللہ عنہ کبھی کبھی جنگ کے وقت قمیض اتار دیتے، تاکہ پوری طاقت، پھرتی اور تیزی کے ساتھ لڑ سکیں،ان کا مضبوط جسم اور چمکتی تلوار دیکھ کر دشمن گھبرا جاتے۔اسی دوران ایک جنگ میں ایک حیرت انگیز واقعی پیش آیا۔ ایک دن مسلمانوں اور دشمنوں کے درمیان سخت جنگ ہوئی۔حضرت ضرار رضی اللہ عنہ پوری بہادری سے لڑ رہے تھے۔
انہوں نے دشمنوں کی صفیں الٹ دیں، مگر اسی دوران وہ اپنے گھوڑے سے گر پڑے اوردشمن کے کچھ سپاہیوں نے حضرت ضرار رضی اللہ عنہ کو گرفتار کر لیا۔
جب مسلمانوں کو یہ خبر ملی تو وہ پریشان ہوگئے۔مدینہ منورہ میں ان کی بہن، حضرت خولہ بنت الأزور رضی اللہ عنہا کو جب پتا چلا کہ ان کے بھائی قید ہوگئے ہیں تو وہ کھڑی ہوگئیں۔حضرت خولہ رضی اللہ عنہا بھی اپنی بہادری میں کسی سے کم نہ تھیں۔انہوں نے فوراً زرہ پہنی، سر پر کپڑا باندھا، تلوار سنبھالی اور گھوڑے پر سوار ہوگئیں۔انہوں نے کسی کو اپنا نام نہیں بتایا،صرف اتنا کہا۔“مجھے دشمن کی طرف جانے دو!”حضرت خولہ رضی اللہ عنہا دشمنوں کے سامنے پہنچیں اور ان پر بجلی کی طرح حملہ کیا۔
دشمن حیران رہ گئے۔ ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ بہادر سپاہی کون ہو سکتا ہے۔انہوں نے اپنے زورِ بازو سے دشمنوں کی صفیں الٹ دیں اور اس جگہ پہنچ گئیں جہاں حضرت ضرار رضی اللہ عنہ قید تھے۔انہوں نے ایک ایک کرکے سب دشمن سپاہیوں کو ہٹایا اور اپنے بھائی کو آزاد کرایا۔
حضرت ضرار رضی اللہ عنہ نے حیران ہو کرپوچھا۔
“کون ہو تم؟”۔
تو حضرت خولہ رضی اللہ عنہا نے کہا۔
“میں آپ کی بہن خولہ ہوں!”۔
حضرت ضرارؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انہوں نے زور سے کہا۔
“اللہ اکبر! ایسی بہن ہو تو بھائی کیسے ہار مانے!”۔




































