
ایمان زاہد بھٹی
خاموش کمرہ اور کھڑکی سے جھانکتی ہوئی چاند کی مدھم روشنی اس کے چہرے کی تھکن
کو عیاں کرنے کے لیے کافی تھی ،کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے حیا اپنے لاحاصل خوابوں میں گم سامنے دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیوں کی آواز سن کر اس خواب کی تعبیر کی جانب متوجہ ہوئی ۔ ٹک ٹک ٹک، ہر گزرتا لمحہ حیا کے لاحاصل خوابوں کی جانب بڑھنے کا احساس دلا رہا تھا ۔۔۔
یہ کھڑکی اس کے اسٹڈی ٹیبل کے بالکل سامنے تھی ،جب بھی وہ اپنی پڑھائی سے وقفہ لیتی تو سامنے کھڑکی سے نظر آنے والے چاند کو تکتی اور اپنے لاحاصل خوابوں میں گم ہو جاتی۔۔
گلے میں اسٹتھوسکوپ لٹکائے ، سفید گاؤن لیے، ہاتھ میں فائل لیے ہسپتال کے کوریڈور سے گزر رہی ہے،یہ خواب اس نے اس دن سے دیکھنا شروع کیا جب اس کی والدہ کو دوسری اولاد کی پیدائش کے فیمیل انستھیزا کی ضرورت تھی لیکن فیمیل انستھیزیاکی کمی ہونے کی وجہ سے کراہتا اس کی والدہ کو مرد سےانستھیزیالگوانا پڑا وہ اس کی والدہ کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا۔
اسی لمحے وہ اپنی ماں کی بے بسی کا عالم دیکھ کر فیصلہ کر بیٹھی تھی کہ وہ۔ ایک کامیاب ڈاکٹر بنے گی اور پھر کسی نامحرم مرد کے سامنے کسی کی ماں کو اس طرح بے بس اور شرمندہ نہ ہونا پڑے گا جیسے آج اس کی آنکھیں اپنی ماں کو ایک ایسے کرب سے گزرتا ہوا دیکھ رہی تھیں کہ وہ نہ کچھ کہہ سکتی تھی نہ ہی سہہ سکتی تھی۔۔۔
لیکن یہ موڑ حیا کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا اس نے اپنی زندگی کی تصویر میں اس خواب کا رنگ بھرنا تھا اور دوسروں کے لیے امید کی کرن روشن کرنی تھی۔۔۔
چند سال گزرے۔۔۔۔
حیا دن دگنی رات چگنی محنت کرتی ،رہی اس نے میٹرک کے امتحان کا دور کامیابی سے مکمل کیا اس کے والد جب تک صحت یاب رہے، اس کا ساتھ دیتے رہے اور والدہ بھی اس کو تسلیاں دینے کے لیے ہر وقت اپنی مامتا کا جذبہ ساتھ رکھتیں ۔۔ وقت کے پتوں میں ہل چل ہوئی اور ہوا کا رخ پلٹنے لگا والد کو شوگر کے مرض نے آ لیا اور والدہ بھی عمر کے تقاضے کے باعث دن بہ دن کمزور ہونے لگیں ۔اب گھرداری کے امور سنبھالنا اس طرح بوڑھی ہڈیوں کے لیے ممکن نہ رہا ۔ حیا کے لیے وقت کی کروٹ ایک کٹھن مرحلہ ثابت ہورہی تھی مگر حیا نہ والدین کی خدمت سے منہ موڑنا چاہتی تھی اور نہ ہی ان کے خوابوں کو لا حاصل چھوڑ دینا چاہتی تھی۔۔۔
جب کبھی گھر کے کام اور والدین کی ذمہ داری کا خیال اسے اسٹڈی ٹیبل پر آیا کرتا اسے وہی گھڑی کی ٹک ٹک اور اندر جھانک کر امید دلاتا چاند کہتا کہ ہر ادھورا خواب مکمل ہونے کے لیے ہی دیکھا جاتا ہے
تم اپنے خوابوں کو حاصل کرنے کی دہلیز پر کھڑی ہو اور تمہیں آگے بڑھنا ہوگا، وہ ہر طلوع ہونے والے سورج سے لے کر بادلوں میں نکلنے والے چاند تک صبر، ایثار قربانی اور اللہ پر توکل کا سہارا تھامے اپنی منزل کی جانب بڑھتی رہی سارا دن امی ابو کی دواؤں کا خیال، ان کی غذا کے انتظام سے لے کر بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر اپنی فیس کے پیسوں کو جوڑنے تک کا سفر طے کرتی رہی اس سفر کے انجام سے وہ بظاہر بے خبر تھی مگر وہی امید اور فیصلہ کن موڑ اس کے یقین کی ڈور کو مضبوط کرتا چلا آیا تھا۔۔۔
آخر کار میڈیکل کالج کے داخلے کا دن آگیا اور وہ گھر کے سارے کام سمیٹ کر امی ابو کی دعائیں لیتی ٹیسٹ دینے امتحان گاہ جا پہنچی کسے خبر تھی کہ آئندہ کیا ہونا تھا مگرانسان کے لیے کوشش اور محنت کا اصول اللہ نے قرآن میں بتایا ہے اور اس کا نتیجہ رب پر ایمان کے حوالے ہے ۔۔۔
کچھ مدت بعد دروازے کی گھنٹی بجنے لگی اور ڈاکیے نے ایک خاکی لفافہ حیا کو دیتے ہوۓ کہا مادام یہاں دستخط کر دیجیے، حیا نے بھاری ہوتے دل کے ساتھ دستخط کیے اور امی ابو کے سامنے لفافہ لے کر بیٹھ گئی، اس کے ہونٹ سلے اور اس کی آنکھیں ہر جذبے سے خالی تھیں، جیسے ہی اس نے امی ابو کی آنکھوں میں دیکھا تو اسے گویا زندگی مل گئی ۔والد نے کہا بیٹا حیا ادھر آؤ میری بیٹی تم ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہمارے دل کی خوشی ہو اللہ نے تمہیں رحمت بنا کر ہمارے بڑھاپے کا سہارا بنایا اور اب دیکھنا اللہ میری بیٹی کو اپنی مخلوق کے لیے ایک کامیاب ڈاکٹر بنا کر نفع بخش بنائے گا۔
ابو کے الفاظ سنتے ہی حیا نے لرزتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا اور بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے مگر یہ آنسو بے بسی کے نہیں شکر کے تھے جو لاحاصل غم کانہیں حاصل کی سچی جستجو کاپتہ دے رہے تھے ۔۔ حیا کی محنت اور اس کے سچے جذبات رنگ لے آۓ تھے ،اسے میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا تھا اور والدین کی دعاؤں کا یہ ثمر تھا کہ اس کے چچا جو مالی طور پر کافی مستحکم تھے، انہوں نے اس کے والدین سمیت گھر اور حیا کی تعلیم کا مکمل خرچ اٹھا لیا۔۔۔
وقت گزرتا گیا حیا کے والدین اب ویل چئیر پر آچکے تھے مگر ان کی بوڑھی ہڈیوں میں تازگی کی روح دوڑ گئی، جب حیا ایک کامیاب ڈاکٹر بن کر خواتین کو اس شرمندگی اور اس بے بسی سے بچانے کا ذریعہ بن گئی جس حالت میں کبھی اس نے اپنی ماں کو دیکھ کر سبق حاصل کیا تھا اور لا حاصل خوابوں کی تصویر میں رنگ بھرنے کا ارادہ کیا تھا۔۔۔




































