
عریشہ اقبال
دل دھڑکنا چھوڑ دے تو زندگی کا تصور نا ممکن ہے اور روح تڑپنا چھوڑ دے تو بندگی اپنا راستہ بدل دیتی ہے۔دل کا زندہ رہنا ظاہر
کی آنکھ کو بصارت دیتا ہے اور روح کا گھائل ہوجانا باطن کی روشنی چھین لیتا ہے۔۔۔
کبھی کوئی ایسا شخص دیکھا ہے؟
جس کا بہت پیارا بچھڑ گیا ہو۔۔
اس پیار کی خوشبو سے ہی اس کی زندگی مہکتی رہی ہو۔غموں کی برسات میں اس اپنے کا کندھا ہی چھتری بنا ہوجس چھتری نے اسے نفرت انگیز رویوں سے وجود کو تھکا دینے والے کئی بوجھ سےآزاد کرنے میں اپنا مکمل کردار ادا کیا ہوحتیٰ کہ اس کا ساتھ نبھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہو ۔
آپ اس شخص کے بچھڑ جانے پر کیا محسوس کریں گے؟ یہی نا کہ اس دوست کے کاندھے پہ سر رکھنا اب ممکن نہیں۔زندگی کی ہر لڑائی اب اسے تنہا لڑنی ہے ۔اب کوئی نہیں جو اس غموں کے طوفان میں اس کا سہارا بن سکے۔ اب کون ہے جو اندھیری رات میں اس کے لیے چراغ لے کر چل سکے
ٹھٹھرتی شام میں اپنی محبت کی چادر اس کو اوڑھا سکےلیکن۔۔۔ یہیں کہیں آپ اس منظر کے ایک رخ پر اپنی نگاہ جماۓ بیٹھے ہیں اور دوسرا رخ آپ کی آنکھوں سے اوجھل ہوگیا ہے ،جانتے ہیں وہ کونسا پہلو ہے؟
وہ پہلو اس رشتے، اس تعلق کی بنیاد ہے جو اپنی جڑیں اس حد تک گہری اور مضبوط کرچکی ہے کہ اسے کسی ظاہری لبادے کی ضرورت نہیں رہی۔ وہ ایک دوسرے کو دل تھما چکے ہیں اور یہ دل سے ہوتا ہوا سفر ہی تو روح کو تڑپنا سکھاتا ہے۔ آئیے ایک ایسی ہی ملاقات کا احوال سناتی ہوں جو میرے اور آپ کے لا شعور میں اب تک زندہ ہے مگر اس زندگی کا شعور ہر کسی کی آنکھ نہیں دیکھ سکتی اور نہ ہی ہر دل اس احساس کا لمس محسوس کرسکتا ہے۔۔۔۔
ملاقات کا آغاز ہوتا ہے ایک سوال سےاور وہ سوال ایک اٹل حقیقت ہے ،تجلی دکھائی جاتی ہے اور پوچھا جاتا ہے۔۔
الست بربکم؟؟؟
کیا میں تمہارا رب نہیں
جواب آتا ہے اور جواب بھی ایسا کہ جس میں عجب تاثیر ہے اور بلا کا سرور۔۔ ہاں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ہی ہمارے رب ہیں،اب دل تھامے رکھیے کیونکہ ہر محبت کا اصل امتحان جدائی ہوتا ہے ۔۔ اس ملاقات کا انجام بھی بظاہر جدائی ہے ۔۔وہ کہتا ہے کہ میں تمہیں اب دنیا میں ایک مقررہ مدت تک کے لیے بھیج رہا ہوں۔۔۔
ایک بے چینی
ایک ہل چل
ایک اضطراب کی فضا بنتی ہے
سب مل کر پوچھتے ہیں ،ہم تو آپ کے ہیں آپ۔ ہمارے پاس ہیں بھلا ہمیں آپ سے دور جاکرکیا مل۔ سکے گا، ہمیں اپنے پاس ہی رہنے دیجیے ۔۔۔
مگر پھر ان سب کو اس جدائی سے گزارنے اور اس ملاقات کی حقیقت سمجھانے کے لیے اس دنیا میں بھیج دیا گیا مگر یہاں اس عالم سے دور رہ کر بھی کہیں نہ کہیں اس ملاقات کے نقوش نظر آتے ہیں،کہیں کوئی سرگوشی،کوئی ٹوٹ کر بکھرتا وجود،اپنے اندر جھانک کر اس ملاقات کو ڈھونڈتا ہے اور جو ڈھونڈ لیتا ہے وہ تلاش حق میں مصروف نظر آتا ہے ۔
یہ اس دنیا کا دستور ہے کہ یہاں وفا کے بدلے جفا اور خطا کی معافی سے بڑھ کر اس کی سزا کو ترجیح دی جاۓ گی ،یہاں زیادتیوں پر ڈھنڈورچی بن کر اعلان کیا جاۓ گا مگر وہ لوگ جو اس ملاقات کا سرور اور گواہی کا حق محسوس کر لیتے ہیں وہ جو اپنے گناہوں کا نظر آنا اور اس پر توبہ کے آنسو بہانا نعمت سمجھتے ہیں۔
وہی تو اپنے دلوں کے امراض اور روح کے زخموں کا مرہم پاتے ہیں۔یقین جانیے ہمارے مسائل اس کی رحمت سے بڑے نہیں ہیں۔اور ہمارے گناہ اس کی مغفرت سے بڑھ کر نہیں ہیں کہ ہم اس کی طرف رجوع کرنے اور اپنی۔ اصل کی طرف دوڑنے سے جی چرانے لگیں ،اپنی زندگی میں بندگی کی طلب کو اپنا کر تو دیکھیے ۔اس سے کہہ دیجیے ربی میرا جینا میرا مرنا آپ کی خاطر بنا دیجیے، نا میری زندگی بہت اجڑی ہے اسے سنوار دیجیے نا
میرے معاملات بہت منتشر ہیں انہیں سمیٹ لیجیے نایا ربی اپنی طرف متوجہ کر دیجیے نا ۔اللھم آمین




































