
ثروت اقبال
زندگی کے سفر میں کچھ لمحات ایسے نصیب ہوتے ہیں جو انسان کی یادداشت میں ہمیشہ کے لیے روشن نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ سن
2025 میں اسی نوعیت کی ایک تابناک یاد ہمارے خاندان کے حصے آئی ۔ وہ لمحہ جب ہماری بیٹی نے اپنی جامعہ سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی اور ماشاءاللہ گولڈ میڈل اپنے نام کر کے ہمیں فخر، شکر اور خوشی کی ایسی کیفیت سے ہمکنار کیا جسے لفظوں میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔
یہ کامیابی محض ایک تعلیمی اعزاز نہیں یہ والدین کی برسوں پر محیط محنت، تربیت، قربانیوں اور سب سے بڑھ کر ان بے شمار دعاؤں کی قبولیت ہے جو کبھی رات کی تنہائیوں میں، کبھی سجدوں میں، اور کبھی بے آواز آنسوؤں کے ساتھ اللّہ تعالیٰ کے حضور پیش کی جاتی رہیں۔ اللّہ تعالیٰ نے اس دعا کو محض اپنی رحمت کے ساتھ قبول فرمایا ۔
گولڈ میڈل ایک تمغے سے کہیں بڑھ کر معنویت رکھتا ہے۔ یہ اس عزم اور استقامت کی علامت ہے جو ہماری بیٹی اِذما اقبال نے اپنے تعلیمی سفر کے دوران دکھایا۔ یہ اس روشن مستقبل کا پیش خیمہ بھی ہے جو اس کے سامنے امکانات کی ایک نئی دنیا کھول رہا ہے۔ علم کی مسلسل جستجو، محنت سے نہ گھبرانااور اللّہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ۔ یہ تینوں عناصر وہ بنیادیں ہیں جو کسی بھی طالب علم کی کامیابی کو ممکن بناتے ہیں ۔
والدین کے لیے اولاد کی کامیابی ہمیشہ جذباتی ہوتی ہے مگر یہ کامیابی ایک اضافی وقار بھی رکھتی ہے کیونکہ یہ نسلِ نو کے اس روشن چہرے کی نمائندگی کرتی ہے جو پاکستان کے مستقبل کو سنوارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ملک جب ایسے ذہین، باصلاحیت اور محنتی نوجوانوں کو سامنے آتا دیکھتا ہے تو امید کی شمع اور بھی روشن ہو جاتی ہے۔
ہم آج ہر طالب علم کے لیے نئے سفر کی دعا بھی کرتے ہیں۔
اے ربِ کریم!
زندگی کے ہر مرحلے میں آسانیاں، کامیابیاں اور برکتیں نازل فرما۔
وہ راستے کھول جن میں بھلائی ہو، وہ فیصلے لکھ جن میں استقامت ہواور وہ نعمتیں عطا کر جن میں عزت و سربلندی ہو۔
اپنی حفاظت، اپنی محبت اور اپنی رحمت کے سایے میں ہمیشہ سلامت رکھ،آمین۔
یہ اعزاز ہماری بیٹی کے مستقبل کی پہلی سیڑھی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ اور ہر طالب علم علم، اخلاق اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے سفر کو جاری رکھیں گے اور ایک روز معاشرے میں مثبت تبدیلی کا اہم کردار بنیں گے۔




































