
انیلا عمران
رب کائنات جو اس زمان و مکاں کا خالق ہے، ابتدائے افرینش سےلے کر اب تک کے تمام انسانوں کا رب ہے،اس زمانے اور دنیا
کے تمام نشیب و فراز کا گواہ ہے ۔
سورہ العصر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
"زمانے کی قسم انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے نیک عمل کیے حق بات کی نصیحت اور صبر کی تلقین کی "قران جسے اللہ نے انسانیت کے لیے ایک ضابطہ حیات بنا کر اتارا جسے دلوں کی شفا حق روشنی بزرگ و برتر کلام اور راہ ہدایت قرار دیا ،قران جس کے اندر ایک کائناتی سچائی موجود ہے اور ساڑھے چودہ سو سال سے لے کر اب تک اس میں چھپے ہوئے حقائق ظاہر ہو رہے ہیں ،آخر کیا وجہ ہے کہ وہ قران جسے رب کائنات نے قیامت تک کے انسانوں کے لیے راہ ہدایت بنا کر بھیجا ،آج کیوں ہماری ہدایت کا ذریعہ نہیں بن رہا ،ہم کیوں ہدایت و رہنمائی کے لیے باطل نظاموں کی طرف دیکھ رہے ہیں، کمزوری کہاں پر ہے؟
سورہ حمہ السجدہ میں اللہ تعالی فرماتے ہیں "ہم بہت جلد تمہیں تمہارے نفس اور افاق میں ایسی نشانیاں دکھائیں گے کہ تم پکار اٹھو گے کہ قران حق ہے"اس میں کوئی شک نہیں کہ قران کو ہر مسلمان باعث اجر و ثواب برکت سمجھتا ہے لیکن اسے اپنے لیے راہ ہدایت یا گائیڈ بک نہیں سمجھتا اور نہ ہی اسے پڑھتے ہوئے اپنے لیے عمل کے اصول متعین کرتا ہے ، اصحاب رسول کا یہ معمول تھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ پوچھتے تھے کہ کون سی آیت اتری بلکہ دریافت فرماتے تھے کہ کیا حکم نازل ہوا ،سورہ یونس میں اللہ تعالی فرماتے ہیں۔۔۔
"لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے ،یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے جو اسے قبول کر لے ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے، اے نبی کہو کہ یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ چیز اس نے بھیجی اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے یہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں"
یہاں پر اس عذر کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے جو قرآن پر عمل کے سلسلے میں پیش کی جاتی ہے کہ موجودہ زمانے میں قرآن پر عمل ممکن نہیں رہا اب زمانہ بدل گیا ہے۔ اللہ رب العزت نے دنیا کی سب سے گمراہ قوم کی ہدایت کے لیے قرآن کو منتخب کیا اور پھر اسے دنیا کی سب سے مہذب طاقتور اور حکمران قوم بنا کر دکھایا ،اگر یہ گمراہ اور بھٹکی ہوئی قوم رول ماڈل بن سکتی ہے تو آج کا بھٹکا ہوا انسان اور تہذیب اس کی روشنی میں ہدایت کا راستہ نہیں کیوں پا سکتی ؟
مولانا مودودی کا قول ہے"اسلام کے اصولوں میں عالمگیری کی طاقت ہے ،دنیا ان کی طرف خود کھینچے گی بشرطیکہ آپ اپنے لیے نہیں اپنے اصولوں کے لیے جییں اور مریں"۔ یعنی ارادے کی پختگی ہو تو نہ تو زمانہ آڑے آسکتا ہے اور نہ حالات، جس دن مسلمانوں نے حالات کے شکوے اور گریز کی راہیں چھوڑ کر اس کتاب کو ہدایت کا راستہ سمجھ کر پکڑ لیا تو دنیا کی کوئی طاقت مسلمانوں کو بحیثیت قوم غالب ہونے سے نہیں روک سکے گی ۔بس یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ اسلام ہر عہد ہر صدی ہر زمانے اور ہر دور کا دین ہے کیونکہ نہ انسان بدلا نہ اس کی خواہشات اور نہ اس کی ترجیحات تو پھر وقت کیسے بدل سکتا ہے ؟
قران میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلمان
اللہ کرے عطا ہو تجھےجدت کردار




































