
عدیلہ افضل
کچھ دن کیلنڈر پر نہیں ہوتے،وہ تاریخ کے سینے پر کندہ ہوتے ہیں۔16 دسمبر بھی ایسا ہی ایک دن ہے،ایک تاریخ، دو زخم۔
اس دن رونما ہونے والے وہ دو واقعات جنہیں بھول جانا شاید ایک محبِ وطن کے لیے ناممکن ہے۔۔۔وہ سرد، تاریخی راتیں جب ایک جسم کو دو حصوں میں اس بنا پر تقسیم کیا گیا کہ ہم یہ سمجھتے رہے کہ ہم ان سے بہتر ہیں۔۔۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ریاست طاقت سے نہیں، انصاف سے چلتی ہےاور جب اپنا حق نہ ملے تو خاموش رہنا نہیں، کھڑا ہونا واجب ہو جاتا ہے۔
تاریخ ہمیں واضح طور پر بتاتی ہے کہ اگر قوم میں اتفاق اور انصاف نہ ہو،تو انجام جدائی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔انجام زوال و پستی ہی ہوتا ہےاور جب نااہل لوگوں کو سربراہی سونپ دی جائےتو قومیں برباد ہو جاتی ہیں،گلستاں اجڑ جایا کرتے ہیں۔ہم نے کس طرح اپنے ہی لوگوں کے دکھ اور درد کو نظر انداز کیا، کس طرح مشرقی پاکستان کی آوازسننے کے قابل نہ سمجھی گئی۔
کس طرح شیخ مجیب الرحمٰن اپنی جیتی ہوئی بازی ان موقع پرستوں کے ہاتھوں ہار گئے۔۔ تو پھر یہ کہنا بے جا نہیں کہ شعور صرف حکمرانوں میں نہیں،
عوام میں بھی بیدار ہوتا ہے۔۔۔ اور جب حد سے بڑھ جائے۔۔توعوام کو بھی ساتھ اٹھنا پڑتا ہے۔
غیروں سے کیا شکوہ کریں؟
مجھے تو اپنوں نے ہی مار ڈالا۔
بھارت کے مظالم سہنے کے بعد مشرقی پاکستان میں اتنی سکت ہی نہ رہی تھی کہ مزید ناانصافی برداشت کی جاتی۔۔۔ اور اگر کر بھی لیتے
تو آخر کب تک؟ کیونکہ ریاست کا اولین فرض تو یہی ہے کہ وہ سب کو برابر رکھے،انصاف میں، اختیار میں، محبت میں مگر جب آپ بیج بوئیں اور پھل کوئی اور لے جائےتو دکھ تو ہوتا ہے نا؟ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اور پھر آیا وہ دن، جب معصومیت پر حملہ ہوا۔
سولہ دسمبر 2014 آرمی پبلک اسکول پشاورایک ایسا سانحہ جس نے نہ صرف ایک شہر بلکہ پوری قوم کے دل کو زخمی کر دیا۔۔۔ وہ بچے جو سبق یاد کر رہے تھے، وہ خواب جو ابھی شروع ہوئے تھے، سب آنکھوں کے سامنے اجڑ گئے۔ ماؤں کی گود اجاڑدی گئیں۔ جنت کے وہ پھول جو گھروں سے اپنے گم شدہ موتی ڈھونڈنے نکلے تھے ۔۔۔ اپنے حقیقی مالک سے جا ملے۔۔
جاگتی آنکھوں نے قیامت خیز منظر دیکھا ۔۔۔ہزاروں خواہشیں جو ایک ہی دھماکے کی نذر ہو گئیں ۔۔ لاکھوں جذبے جو مٹی کے ملبے تلے دفن ہو گئے۔۔آخر کیوں؟ ۔۔۔۔۔ کیوں ؟کوئی میرے ہی گھر میں کیسے مجھے مار سکتا ہے ؟ تو افسوسناک پہلو تو یہ ہے کہ اپنا گھر یہ بنا ہی کب تھا ہم تو آج بھی ان انگریزوں کی غلامی میں جی رہے ہیں ۔۔
ہم آج بھی اپنے ہی چمن میں ایک غیر کی بیل کی مانند، جسے کبھی بھی اکھاڑ دیا جا سکتا ہے۔۔۔کتابیں ہمیں ہر سال یاد دلاتی ہیں کہ اگر غفلت میں پڑے رہو گے تو رسوا ہو کر رہ جاؤ گے ۔۔۔مگر یہی دکھ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہےکہ طاقت سے نہیں، حوصلے اور اتحاد سے قوم مضبوط ہوتی ہے۔۔ ہمیں یاد رکھنا ہے کہ تاریخ کے زخم صرف رُلا نہیں سکتے—وہ ہمیں سیکھنے اور بہتر بنانے کے لیے ہیں۔
آج بھی 16 دسمبر کی یہ سرد خنک ہوائیں ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ ہمیں بیدار ہونے اشد ضرورت ہے ۔۔۔مغربی ترقی و ترویج کے چکروں میں اپنی دنیا و عقبیٰ دونوں ہی برباد نہ کر لینا ,.تاریخ بنتی ہے ۔۔۔۔جب غفلت سو جاتی ہے ۔۔۔




































