
نئی دہلی(رنگ نو ڈاٹ کام) بھارت میں ہونے والے عام انتخابات میں ہندو انتہاپسندی کے بل بوتے پر مسلمانوں اور پاکستان سے نفرت کا الاؤ
بھڑکاکر ہندو اکثریت کے جذبات سے کھیلنے والے وزیراعظم نریندر مودی بالآخر اپنے مذموم مقصد میں ایک بار پھر کامیاب ہوگئے ہیں
۔گجرات سے اترپردیش تک مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث نریندر مودی کی ہندو دہشت گرد جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی کو انتخابات میں اندازوں سے کہیں زیادہ اکثریت حاصل ہونے کے بعد نریندر مودی دوسری مدت کے لیے دلی کے تخت پر براجمان ہونے والا ہے۔جمعرات کی شا م تک آنے والے نتائج کے مطابق بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے 350 نشستیں حاصل کرلی ہیں۔جب کہ اپوزیشن کانگریس اور اس کی حلیف جماعتوں کو 89 سیٹیں مل سکی ہیں۔
اس کے علاوہ دیگر جماعتوں کو 103نشستوں پرکامیابی ملی ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ کا ایوان زیریں(لوک سبھا) 542 نشستوں پر مشتمل ہے۔حکومت بنانے کے لیے 274سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔بھارت میں 1971 کے بعد یہ دوسرا موقع ہوگا جب کسی وزیراعظم کی قیادت میں ان کی پارٹی مسلسل دوسری مرتبہ اکثریتی حکومت بنانے والی ہے۔
مودی نے بی جے پی کی کامیابی کواپنی حکومت کے ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ پالیسی پر عوام کا اعتماد قرار دیا ہے۔
ادھر اپوزیشن کانگریس کے صدر راہول گاندھی یوپی کے شہر امیٹھی میں اپنی آبائی نشست ہارگئے ہیں۔انہیں بی جےپی کی امیدوار وفاقی وزیر اداکارہ سمرتی ایرانی نے شکست دی۔ تاہم انہوں نے کیرالہ کے حلقے سے بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کرلی۔
راہول گاندھی نے انتخابات میں اپنی پارٹی کی شکست کی اخلاقی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کارکنوں کو اس شکست سے گھبرانے کی ضرورت نہیں، الیکشن میں ہار جیت ہوتی ہی ہے، ہماری لڑائی نظریات کی ہے اور ہم اپنی لڑائی کو جاری رکھیں گے۔





































