
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن معطل کردیا ۔
عدالت عظمیٰ نے ملازمت میں توسیع کے بارے میں دائر درخواست کو ازخود نوٹس میں بدل دیا ۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3برس کی توسیع کی گئی تھی ۔چیف جسٹس نے اسے عوامی اہمیت کا معاملہ قرار دیتے ہوئے ازخود نوٹس میں تبدیل کیا۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ صدر مملکت تو مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار ہے اور اس کیلئے کابینہ سے بھی منظوری لی گئی تھی۔پشاور ہائی کورٹ میں بھی ایسی درخواست دائر ہوئی تھی جو واپس لے لی گئی تھی۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ وزیراعظم کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار نہیں،یہ اختیار صرف صدرکو ہے ۔وزیراعظم نے پہلے توسیع کا لیٹر جاری کیا ،جب انہیں بتا یا گیا گہ آپ توسیع نہیں کرسکتے تو صدر کی جانب سے 19اگست کو منظوری دی ،پھر وزیراعظم نے 21اگست کو دوبارہ کیسےمنظوری دے دی ؟
چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس آصف سعید کھو سہ نے حکم میں کہا کہ اسے عوامی اہمیت کا معاملہ قراردیتے ہوئے184(3) کے تحت از خودنوٹس میں تبدیل کررہے ہیں ۔
آرمی چیف کی مدت ملازمت کیخلاف ریاض حنیف راہی کی جانب سے دائر دارخواست کو واپس لینے کی استدعاعدالت عظمیٰ نے مسترد کردی ۔





































